ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

بھیما کوریگاؤں تشدد کے الزام میں ایک خاتون سمیت تین پونے سے گرفتار

Bhima Koregaon case : این آئی اے نے ساگر رام گوکھلے ( 32 سال ) ، رمیش مرلی دھر گائیچور (36 سال ) اور جیوتی جگتاپ کو گرفتار کیا ہے ۔ ان تینوں کا تعلق پونے سے ہی ہے ۔

  • Share this:
بھیما کوریگاؤں تشدد کے الزام میں ایک خاتون سمیت تین پونے سے گرفتار
بھیما کوریگاؤں تشدد کے الزام میں ایک خاتون سمیت تین پونے سے گرفتار

ممبئی : این آئی اے نے پونے سے بھیما کوریگاؤں تشدد کے الزام میں تین ممنوعہ تنظیم کبیر کلا منچ کے کارکنان کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے ۔ این آئی اے نے ساگر رام گوکھلے ( 32 سال ) ، رمیش مرلی دھر گائیچور (36 سال ) اور جیوتی جگتاپ کو گرفتار کیا ہے ۔ ان تینوں کا تعلق پونے سے ہی ہے ۔ یہ تینوں یلغار پریشد سے وابستہ ہیں اور بھیما کوریگاؤں کیس میں ملوث و مطلوب ملزمین کی فہرست میں شامل تھے ، اس لئے این آئی اے نے ان تینوں کو گرفتار کیا ہے ۔ این آئی اے نے بتایا کہ ماؤنواز کی ضمنی تنظیم کبیر کلا منچ سے وابستہ ان تینوں کی گرفتاری کے بعد تفتیش جاری ہے۔ ان تینوں ملزمین کی گرفتاری اشتعال انگیزی پھیلا کر تشدد پھیلانے کے الزام میں عمل میں لائی گئی ہے  ۔


یہ تینوں اربن نکسل کے الزام میں گرفتار ملندر تل تومڑے کے رابطے میں بھی تھے ۔ ملزمین نے جنگلوں میں نکسل کی ٹریننگ میں کبیر کلا منچ کے مختلف پروگراموں میں بھی حصہ لیا تھا ۔ این آئی اے کے مطابق ملزمان ایک دوسرے کے رابطے میں تھے اورماؤنوازوں اور ممنوعہ تنظیم کبیر کلا منچ کے نظریات کی تشہیر بھی کیا کرتے تھے ۔ این آئی اے نے بتایا کہ ملند تل تومڑے نے 2018 میں یلغار پریشد کی ایک تقریب منعقد کی تھی ، جس کے بعد بھیما کوریگاؤں میں تشدد پھوٹ پڑا تھا اور اس میں ماؤنواز تنظیموں کے ملوث ہونے کے بھی ثبوت ملے ہیں ۔


گرفتاریوں کی بائیں محاذ تنظیم نے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔
گرفتاریوں کی بائیں محاذ تنظیم نے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔


اس سے قبل بھی این آئی اے اس معاملہ میں 15  ملزمان کو گرفتار کرچکی ہے ، جس میں حقوق انسانی کے کارکنان سمیت ادیب ، شعراء اور دیگر اشخاص شامل ہے ۔ ان سب کا تعلق ماؤنواز سے بتا کر انہیں گرفتار کیا گیا ہے ۔ این آئی اے کی خصوصی عدالت میں تینوں ملزمان کو پیش کیا گیا ، جہاں عدالت نے ملزمین کو چار دنوں کی پولیس ریمانڈ میں بھیجنے کا حکم صادر کیا ۔ پولیس اس معاملہ میں مزید تفتیش کر رہی ہے ۔

ان گرفتاریوں کی بائیں محاذ تنظیم نے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ گرفتاری پر بائیں محاذ سے وابستہ کارکنان نے یہ واضح کیا کہ ان گرفتاریوں کو ایک اشارہ سمجھا جانا چاہئے کہ مودی سرکار ایک مرتبہ پھر ملک میں خوف کا ماحول پیدا کر رہی ہے اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس معاملہ میں پولیس کے پاس کوئی ثوت نہیں ہے ، اس نے جو گرفتاریاں کی ہیں ، وہ فرضی خطوط اور فرضی کہانی کی بنیاد پر کی ہیں ، اس لئے انسانی حقوق کے کاموں میں سرگرم فعال کارکنان کو وہ اربن نکسل بتا رہی ہے ۔ اس قسم کے الزامات بھیما کوریگاؤں شوریہ دن پیرنا ابھیان مہاراشٹر نے عائد کئے ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Sep 08, 2020 08:16 PM IST