உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سوتی ہوئی بچی کے گلے میں ڈیڑھ گھنٹے تک لپٹا رہا سانپ، ایسے بچی جان ، اب اپستال میں چل رہا علاج

    سوتی ہوئی بچی کے گلے میں ڈیڑھ گھنٹے تک لپٹا رہا سانپ، ایسے بچی جان ، اب اپستال میں چل رہا علاج ۔ تصویر : ویڈیو گریب ۔

    سوتی ہوئی بچی کے گلے میں ڈیڑھ گھنٹے تک لپٹا رہا سانپ، ایسے بچی جان ، اب اپستال میں چل رہا علاج ۔ تصویر : ویڈیو گریب ۔

    چھ سال کی بچی پروا اپنی ماں کے ساتھ زمین پر سو رہی تھی ، تبھی آدھی رات کو وہاں سانپ آگیا ۔ سانپ کو اچانک دیکھ کر ماں تو بھاگ گئی ، لیکن اسی درمیان سانپ بچی کے گلے سے لپٹ گیا اور تقریبا ڈیڑھ گھنٹے تک سانپ گلے سے لپٹا رہا ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      وردھا : مہاراشٹر کے وردھا ضلع سے ایک دل دہلادینے والی تصویر سامنے آئی ہے ۔ گھر میں سوتی ہوئی ایک بچی کے گلے سے سانپ لپٹ گیا ۔ بڑی مشکل سے سانپ کو ہٹایا گیا ، لیکن جاتے جاتے آخر کار سانپ نے بچی کو کاٹ ہی لیا ۔ فی الحال اس چھوٹی سی بچی کا اسپتال میں علاج چل رہا ہے ۔ گھر کے لوگوں کا کہنا ہے کہ تقریبا ڈیڑھ گھنٹے تک سانپ گلے سے لپٹا رہا ۔ بعد میں بچی کو بچانے کیلئے سانپ پکڑنے والوں کی مدد لی گئی ۔

      یہ واقعہ وردھا کے سیلو تعلقہ میں سامنے آیا ہے ۔ لوکمت سماچار کے مطابق چھ سال کی بچی پروا اپنی ماں کے ساتھ زمین پر سو رہی تھی ، تبھی آدھی رات کو وہاں سانپ آگیا ۔ سانپ کو اچانک دیکھ کر ماں تو بھاگ گئی ، لیکن اسی درمیان سانپ بچی کے گلے سے لپٹ گیا اور تقریبا ڈیڑھ گھنٹے تک سانپ گلے سے لپٹا رہا ۔ گھر میں ہنگامہ مچ گیا ۔

      گاوں کے سیکڑوں لوگ وہاں پہنچ گئے ۔ ماں اور گھر کے دیگر لوگوں نے بچی کو چپ چاپ لیٹے رہنے کیلئے کہا ۔ جب سانپ ہٹنے لگا تو اس کا کچھ حصہ بچی کی پیٹھ سے دب گیا ۔ سانپ نے اسی وقت بچی کو کاٹ لیا ۔ فی الحال بچی کا علاج کستوربہ اسپتال میں چل رہا ہے ۔ بتایا جارہا ہے کہ بچی فی الحال خطرے سے باہر ہے ۔

      اس درمیان گاوں کے لوگوں نے سانپ پکڑنے والے کو فون کیا ، لیکن تب تک سانپ بچی کو کاٹ چکا تھا ۔ لوگ اس واقعہ کے بعد دہشت میں ہیں ۔ بتادیں کہ وردھا ضلع کے گاوں میں کافی بڑی تعداد میں سانپ نظر آتے ہیں ۔ خاص کر برسات کے موسم میں اس کی تعداد کافی زیادہ بڑھ جاتی ہے ۔

      اس سال مئی میں یہاں ایک گھر سے 98 سانپ نکلے تھے ۔ پانی کے ڈرام میں ڈھیروں سانپ چھپے تھے ۔ ایک ساتھ اتنے سانپ دیکھ کر مزدوروں میں افراتفری مچ گئی تھی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: