ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

نیٹ ورک 18 کے اسٹوڈیو سے حراست میں لئے گئے 13860 کروڑ کیش اعلان کرنے والے مہیش شاہ، کئے یہ انکشافات

ای ٹی وی گجراتی کے اسٹوڈیو میں آئے مہیش شاہ نے خصوصی بات چیت میں کہا کہ وہ قبول کرتے ہیں کہ انہوں نے آمدنی کے اعلان منصوبہ (آئی ڈی ایس) کے تحت 13860 کروڑ روپے کالا دھن انکم ٹیکس محکمہ کے سامنے سرینڈر کیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 03, 2016 11:34 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
نیٹ ورک 18 کے اسٹوڈیو سے حراست میں لئے گئے 13860 کروڑ کیش اعلان کرنے والے مہیش شاہ، کئے یہ انکشافات
ای ٹی وی گجراتی کے اسٹوڈیو میں آئے مہیش شاہ نے خصوصی بات چیت میں کہا کہ وہ قبول کرتے ہیں کہ انہوں نے آمدنی کے اعلان منصوبہ (آئی ڈی ایس) کے تحت 13860 کروڑ روپے کالا دھن انکم ٹیکس محکمہ کے سامنے سرینڈر کیا ہے۔

احمد آباد۔ انکم ڈیکلیریشن اسکیم (آئی ڈی ایس) کے آخری دن 30 ستمبر کو اس کی میعاد ختم ہونے سے صرف پانچ منٹ پہلے نصف شب کو تقریباً 13860 کروڑ روپے کے کالے دھن (سارے نقد) کا اعلان کرکے انکم ٹیکس حکام تک کو مبینہ طور پر حیرت زدہ کر دینے والے احمد آباد کے رہنے والے پراسرار تاجر مہیش شاہ کئی دنوں کی گمشدگی کے بعد آج اچانک یہاں ایک ای  ٹی وی کے گجراتی اسٹوڈیو میں پہنچ گئے اور دعوی کیا کہ یہ پیسہ ان کا نہیں ہے اور وہ تمام چیزوں کا انکشاف محکمہ انکم ٹیکس کے سامنے کریں گے اور اسی دوران پولیس اور محکمہ انکم ٹیکس کے اہلکاروں نے انہیں اسٹوڈیو ہی میں ڈرامائی طریقے سے گرفتار کر لیا۔ پولس انہیں انٹرویو کے درمیان ہی پکڑ کر آگے کی پوچھ گچھ کے لئے سرکھیج تھانہ لے گئی جہاں سے انہیں انکم ٹیکس محکمہ کے حوالے کر دیا جائے گا۔ اپنے عجیب و غریب رویہ سے سب کو حیرت میں ڈال دینے والے 67 سالہ مہیش شاہ کئی دنوں کی پراسرار گمشدگی کے بعد آج شام اچانک یہاں ایس جی شاہراہ پر واقع ای ٹی وی گجراتی چینل کے اسٹوڈیو پہنچ گئے۔ اسٹوڈیو میں انہوں نے کہا کہ یہ بات 100 فیصد سچ تھی اور وہ سچ مچ میں اس ٹیکس کی رقم بھرنے والے تھے۔ لیکن جن لوگوں کا پیسہ تھا وہ آخری وقت میں مکر گئے جس کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کر پائے۔ اچانک ایسا ہونے سے پیدا ہوئی گبھراهٹ کی وجہ سے وہ انکم ٹیکس محکمہ کے پاس نہیں جا پائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بہت ہی جلد تمام لوگوں کا انکشاف کریں گے۔


ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ پیسہ کسی ایک شخص کا نہیں بلکہ بہت سے لوگوں کا ہے۔ انہوں نے اس میں سے کسی کے مجرم ہونے کی بات سے انکار کیا اور اس بات سے پوری طرح انکار نہیں کیا کہ یہ پیسہ سیاستدانوں، افسران یا تاجروں ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود زمین کی دلالی کے دھندے سے جڑے ہیں لیکن یہ پیسہ ان کا نہیں تھا، انہوں نے کچھ پیسہ بنانے کی لالچ میں اس رقم کو اپنے نام سے جمع کرانے کی بات سوچی تھی اور انہیں اس میں کچھ بھی غلط محسوس نہیں ہوا تھا۔ شاہ نے کہا کہ یہ پیسہ ان کے پرانے دوستوں یا جاننے والوں کا نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ساری بات کا انکشاف بہت جلد محکمہ انکم ٹیکس کے سامنے کریں گے۔بار بار پوچھنے کے باوجود انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جس رقم کا انہوں نے انکشاف کیا تھا اصل رقم اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے اور پیسے کے مالکان بہت بڑے لوگ بھی شامل ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سب کچھ بہت جلدی اور آخری وقت میں ہوا۔اس دوران ان سے کچھ غلطی بھی ہوئی ہے لیکن میڈیا نے ان کے خاندان کے ساتھ جس طرح کا برتاؤ کیا ہے اس سے انہیں بہت تکلیف ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے سی اے کو اس پورے معاملے میں ملوث کرنا ٹھیک نہیں ہے کیونکہ وہ کسی طرح ٹھیک نہیں ہے۔انہوں نے اپنے اہل خانہ کے تحفظ کو لے کر بھی فکر ظاہر کی۔انہوں نے کہا کہ ان کی رہائش گاہ پر انکم ٹیکس چھاپہ ماری کی انہیں اطلاع ہے لیکن وہ اب تک اپنے گھر نہیں گئے۔


واضح رہے کہ شاہ نے مذکورہ رقم پر آئی ڈی ایس کے تحت لگنے والے 6237 کروڑ روپے کے ٹیکس (مجموعی رقم کا 45 فیصد) کی پہلی قسط کے طور پر تقریباً 1560 کروڑ روپے 30 نومبر تک دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔وہ گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے لاپتہ تھے۔ محکمہ انکم ٹیکس ان کی یہاں واقع رہائش گاہ، ممبئی کی رہائش گاہ اور دفتر اور راجکوٹ میں ان کے کچھ جاننے والوں کے ٹھکانوں اور ان کے اعلان میں مدد کرنے والی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم اپاجی اینڈ کمپنی کے دفتر پر گزشتہ تین دنوں کے دوران چھاپہ مار چکا ہے لیکن کوئی بہت بڑی برآمدگی نہیں ہوئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنی بڑی رقم کا انکشاف کرنے والے شاہ کو یہاں یا ممبئی کی کاروبار ی دنیا میں کوئی نہیں جانتا۔ احمد آباد اور ممبئی میں اس کی دو عام رہائش گاہیں ہونے کی ہی بات اب تک سامنے آئی ہے۔ یہاں جودھپور علاقے کے اپارٹمنٹ میں ان کی رہائش گاؤ میں رہنے والے اس کے بیٹے مونیتیش نے کل اگرچہ اپنے والد کے اعلان کی اطلاع ہونے سے انکار کیا تھا لیکن اس نے کہا کہ اس کے والد کہیں بھاگے نہیں ہیں۔ وہ مناسب وقت پر سامنے آئیں گے۔ اس نے کہا کہ ان کے والد ایک ذمہ دار شہری ہیں اور بھگوڑا نہیں ہیں لیکن گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے احمد آباد میں نہیں ہیں۔ شاہ نے آج اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اہل خانہ کو ان کے کام دھندے کی مکمل معلومات نہیں ہے۔


ان کے سی اے تحمل سیٹھ نے کہا تھا کہ وہ شاہ کو 2013 سے جانتے ہیں اور وہ ان کے کوئی باقاعدہ موکل نہیں تھے۔وہ 30 ستمبر کی رات ان کے پاس آئے تھے اور انہوں نے اپنے پاس 13860 کروڑ کی نقد ہونے کی بات کہی تھی۔وہ انہیں تقریباً آدھی رات کو یہاں انکم ٹیکس کمشنر کے پاس لے گئے تھے جنہوں نے مکمل تعاون کرتے ہوئے ان سے ان کا حلف لیا تھا۔ انہوں نے اپنا کوئی کاروبار نہیں بتایا تھا اور یہ کہا تھا کہ ان کے پاس پورا پیسہ نقد رقم کے طور پر ہے۔انہیں 14 اکتوبر کو فارم نمبر 2 بھرنے کو دیا گیا تھا اور انہوں نے 30 نومبر تک کی پہلی قسط بھرنے کی بات کہی تھی۔اس کے بعد بھی وہ مسلسل ان کے رابطے میں تھے۔انہوں نے انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ سے بھی اتنی بڑی نقد رقم کو جمع کرانے کے لئے سیکورٹی مہیا کرانے کی بات کہی تھی۔ لیکن انہوں نے پیسے جمع نہیں کرائے۔ کچھ وقت سے ان کا فون بند ہے۔ سیٹھ نے کہا کہ انہیں کبھی یہ شک نہیں ہوا کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔تاہم اب ان کی مالی حالت اور دعوے کے بارے میں کئی طرح کی باتیں کہی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ شاہ کو انہوں نے انکم ٹیکس کی کارروائی سے بچنے کے لئے ٹیکس کی تھوڑی تھوڑی رقم بھی جمع کرانے کو کہا تھا لیکن انہوں نے ایسا بھی نہیں کیا۔ ایک سوال کے جواب میں سیٹھ نے کہا کہ شاہ نے اپنے اعلان میں اپنا کوئی پیشہ نہیں بتایا لیکن ہماری معلومات کے مطابق وہ زمین کی خرید و فروخت کے کاروبار کرتے ہیں۔وہ بنیادی طور پر احمد آباد کے رہائشی ہیں لیکن ان کا کام کاج ممبئی میں ہے۔

First published: Dec 03, 2016 07:43 PM IST