ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

ممبئی میونسپل کارپوریشن کے اسکولوں میں سوریہ نمسکار کا نفاذ غیر قانونی اور غیر آئینی : مجید میمن

معروف قانون داں و رکن پارلیمنٹ ایڈوکیٹ مجید میمن نے اس کے نفاذ کو غیر قانونی و غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں ہر باشندے کو مذہبی آزادی حاصل ہے اور اس قسم کا کوئی فیصلہ کسی بھی مذہب یا فرقہ پر نہیں صادر کیا جا سکتا جس میں اس کی مذہبی آزادی صلب ہوتی ہو

  • UNI
  • Last Updated: Sep 01, 2016 10:27 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ممبئی میونسپل کارپوریشن کے اسکولوں میں سوریہ نمسکار کا نفاذ غیر قانونی اور غیر آئینی : مجید میمن
معروف قانون داں و رکن پارلیمنٹ ایڈوکیٹ مجید میمن نے اس کے نفاذ کو غیر قانونی و غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں ہر باشندے کو مذہبی آزادی حاصل ہے اور اس قسم کا کوئی فیصلہ کسی بھی مذہب یا فرقہ پر نہیں صادر کیا جا سکتا جس میں اس کی مذہبی آزادی صلب ہوتی ہو

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن کی اسکولوں میں سوریہ نمسکار اور یوگا لازمی قرار دیئے جانے کے خلاف ایک جانب جہاں شہر کی ملّی و مسلم سماجی تنظیموں اور دیگر نے اس کی شدید مخالفت کی ہے وہیں معروف قانون داں و رکن پارلیمنٹ ایڈوکیٹ مجید میمن نے اس کے نفاذ کو غیر قانونی و غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں ہر باشندے کو مذہبی آزادی حاصل ہے اور اس قسم کا کوئی فیصلہ کسی بھی مذہب یا فرقہ پر نہیں صادر کیا جا سکتا جس میں اس کی مذہبی آزادی صلب ہوتی ہو۔

ممبئی میں راشٹروادی کانگریس کے سربراہ شردپوار اور دیگر کے ہمراہ حالات حاضرہ پر منعقدہ ایک میٹنگ کے بعد اخبار نویسوں کو خطاب کرتے ہوئے مجید میمن نے کہا کہ گزشتہ دنوں ممبئی میونسپل کارپوریشن کی مجلس عاملہ نے کارپوریشن کی اسکولوں نے سوریہ نمسکار اور یوگا کرائے جانے کی تجویز منظور کی ہے چونکہ مسلمان صرف اللہ کی عبادت کرتا ہے اور چاند سورج و دیگر کی پرستش نہیں کرتا ہے لہذا وہ سوریہ نمسکار نہیں کر سکتا جسے سورج کے سامنے سجدہ کرنا بھی کہا جاتا ہے۔

ایڈوکیٹ مجید میمن نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کے اس فیصلے سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں لہذا سب سے پہلے اسے لازمی نہیں قرار دیا جائے اور اسے منسوخ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میونسپل کمشنر کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ مجلس عاملہ کی جانب سے منظور کی گئی تجویز کو عوامی مفاد میں دوبارہ اسٹینڈنگ کمیٹی کے حوالے کرے اور اس کے بعد اس پر دوبارہ غور وخوض کے بعد اس پر عمل کیا جائے۔ معروف قانون داں کے مطابق عدالت میں اس کے خلاف عرضداشت داخل کی جا سکتی ہے اور کارپوریشن کی اس تجویز پر فوری طور پر روک بھی لگائی جا سکتی ہے کیونکہ آئین کے مطابق ہمیں جو مذہبی آزادی حاصل ہوئی ہے وہ اس کے خلاف ہے۔

First published: Aug 31, 2016 06:27 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading