ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

کرنل پروہت کو سپریم کورٹ سے بھی کوئی راحت نہیں، ٹرائل کورٹ بدستور سماعت کرے گی

گزشتہ ماہ خصوصی این آئی اے عدالت نے ملزمین کے خلاف یو اے پی اے قانون و دیگر قوانین کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے تھے جس کے بعد ملزم کرنل پروہت نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا

  • UNI
  • Last Updated: Nov 19, 2018 05:26 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
کرنل پروہت کو سپریم کورٹ سے بھی کوئی راحت نہیں، ٹرائل کورٹ بدستور سماعت کرے گی
مالیگاؤں دھماکہ معاملہ کے ملزم لیفٹننٹ کرنل شری کانت پرساد پروہت: فائل فوٹو۔

مالیگاؤں 2008  بم دھماکہ معاملے کے کلیدی ملزم کرنل پروہت کی جانب سے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف داخل اپیل کو سپریم کورٹ آف انڈیا نے یہ کہتے ہوئے خارج کردیا کہ ممبئی ہائی کورٹ معاملے کی سماعت جلد کریگی۔ اس معاملے میں متاثرین کی نمائندگی کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے ممبئی میں اخبارنویسوں کو بتایا کہ کرنل پروہت نے نچلی عدالت کی کارروائی پر اسٹے حاصل کرنے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جس کی سماعت آج چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گگوئی کی سربراہی والی تین رکنی بینچ کے سامنے عمل میں آئی جس کے دوران متاثرین کی نمائندگی کرتے ہوئے سابق سالیسٹر جنرل آف انڈیا امریندر شرن اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول نے عدالت کو بتایا کہ نچلی عدالت نے ملزمین کے خلاف چارج فریم کردیا ہے اور ممبئی ہائی کورٹ نے بھی اسٹے دینے سے انکار کردیا ہے لہذا ملزم کی عرضداشت کو مسترد کردیا جانا چاہئے کیونکہ بم دھماکوں کو دس سال سے زائد کا عرصہ گذر چکا ہے اور متاثرین انصاف کا انتظار کررہے ہیں۔


حالانکہ کرنل پروہت کے وکیل ہریش سالوے نے عدالت کو بتایا کہ مقدمہ پر اسٹے دیا جانا چاہئے کیونکہ ممبئی ہائی کورٹ نے اس کی عرضداشت پر ابھی تک سماعت مکمل نہیں کی ہے ۔ فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد تین رکنی بینچ کے جسٹس رنجن گگوئی ، جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس کے ایم جوزف نے یہ کہتے ہوئے کرنل پروہیت کی عرضداشت مسترد کردی کہ ممبئی ہائی کورٹ اس معاملے میں سماعت مکمل کرے نیز اسٹے کی اس کی درخواست کو بھی مستر کردیا ۔


واضح رہے کہ گزشتہ ماہ خصوصی این آئی اے عدالت نے ملزمین کے خلاف یو اے پی اے قانون و دیگر قوانین کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے تھے جس کے بعد ملزم کرنل پروہت نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جہاں انہیں منہ کی کھانی پڑی تھی نیز آج سپریم کورٹ نے بھی اس کی عرضداشت کو خارج کردیا ۔خصوصی عدالت نے ملزمین سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر، سدھاکر دویدی، میجر رمیش اپادھیائے، سمیر کلکرنی، سدھاکر چتروید اور اجئے راہیکر کے خلاف مقدمہ قائم کیئے جانے کے احکامات جاری کئے تھے جس کے بعد سے ملزمین اس تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح معاملے کی سماعت رک جائے اور ان پر سے یو اے پی قانون کی دفعات ہٹ جائے۔

First published: Nov 19, 2018 05:26 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading