ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

مالیگاؤں بم دھماکہ معاملہ: بھگوا دہشت گردوں کی درخواست ضمانت مسترد

ممبئی۔ تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کو آج اس وقت بڑی کامیابی حاصل ہوئی جب ممبئی کی ایک عدالت نے مہاراشٹرکے مالیگاؤں شہر میں بھگوا دہشت گردوں کی جانب سے کیئے گئے بم دھماکوں کے ملزمین کو اس وقت ضمانت دینے سے انکار کردیا جب جمعیۃ نے ابھینو بھارت نامی بھگوا دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھنے والے ملزمین کی جانب سے دائر کی گئی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران بطور مداخلت کار عرضی داخل کی اور ان کی درخواست ضمانت کو نا منظور کرانے میں اہم کردار ادا کیا ۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 12, 2015 08:51 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مالیگاؤں بم دھماکہ معاملہ: بھگوا دہشت گردوں کی درخواست ضمانت مسترد
ممبئی۔ تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کو آج اس وقت بڑی کامیابی حاصل ہوئی جب ممبئی کی ایک عدالت نے مہاراشٹرکے مالیگاؤں شہر میں بھگوا دہشت گردوں کی جانب سے کیئے گئے بم دھماکوں کے ملزمین کو اس وقت ضمانت دینے سے انکار کردیا جب جمعیۃ نے ابھینو بھارت نامی بھگوا دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھنے والے ملزمین کی جانب سے دائر کی گئی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران بطور مداخلت کار عرضی داخل کی اور ان کی درخواست ضمانت کو نا منظور کرانے میں اہم کردار ادا کیا ۔

ممبئی۔ تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کو آج اس وقت بڑی کامیابی حاصل ہوئی جب ممبئی کی ایک عدالت نے مہاراشٹرکے مالیگاؤں شہر میں بھگوا دہشت گردوں کی جانب سے کیئے گئے بم دھماکوں کے ملزمین کو اس وقت ضمانت دینے سے انکار کردیا جب جمعیۃ نے ابھینو بھارت نامی بھگوا دہشت گرد تنظیم سے تعلق رکھنے والے ملزمین کی جانب سے دائر کی گئی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران بطور مداخلت کار عرضی داخل کی اور ان کی درخواست ضمانت کو نا منظور کرانے میں اہم کردار ادا کیا ۔


جن بھگوا دہشت گردوں نے درخواست ضمانت داخل کی تھی ان کا تعلق 2008 مالیگاؤں بم دھماکہ معاملے سے تھا اور اس کی کلیدی ملزم سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر ہے ۔ ملزمین نے درخواست ضمانت ممبئی کی خصوصی این آئی اے عدالت میں داخل کی تھی جس کی سماعت کے دوران خصوصی جج ٹیکولے نے اپنے حکم میں کہا کہ بادی النظر میں ملزمین کے خلاف ثبوت و شواہد موجود ہیں لہٰذا درخواست کو نامنظور کیا جاتا ہے ۔ ملزمین کرنل پروہیت، ، راکیش دہاوڑے، رمیش اپادھیائے اور سدھاکر دروید نے اپنی درخواست ضمانت میں خود کو جھوٹے مقدمہ میں پھنسائے جانے کا دعوی کیا تھا اور کہا تھا کہ گذشتہ کئی برسوں سے وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہیں نیز ان سے کی جانے والی تحقیقات کاخاتمہ ہوچکا ہے لہذا انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے۔


جمعیۃ علماء نے ان دھماکوں سے متاثرہ چند افراد کی ایماء پر درخواست ضمانت کی مخالفت کی تھی اور جمعیۃ کے وکیل شریف شیخ نے خصوصی عدالت کو بتایا کہ ملزمین کو ضمانت نہیں دی جانی چاہئے کیونکہ ان کے خلاف ملک سے غداری کے پختہ ثبوت و شواہد موجود ہیں نیز یہ سب کٹر بھگوا تنظیم ابھینو بھارت کے رکن ہیں جن کا ہندوستان کے آئین پر یقین نہیں ہے اور ترنگا کی بجائے ان کا اپنا الگ جھنڈا ہے ۔


ایڈوکیٹ شریف شیخ نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقاتی ایجنسیوں نے ان ملزمین کے خلاف جو فرد جرم داخل کی ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ تمام ملزمین جرم میں برابر کے شریک تھے اورانہوں نے ان دھماکوں میں نا صرف کلیدی کردار ادا کیا تھا بلکہ دھماکوں کی سازش کے ہر مرحلے پر وہ شریک تھے ۔


عیاں رہے کہ گذشتہ دنوں خصوصی جج ٹیکاولے نے قومی تفتیشی ایجنسی اور ملزمین کے ان دلائل کو مسترد کردیا جس میں انہوں نے متاثرین کو بطور مداخل اجازت نہیں دینے کی گزارش کی تھی اور کہا تھا کہ متاثرین معاملے کو طول دینے کی غرض سے بطور مداخلت بننا چاہتے ہیں لیکن جمعیۃ کی جانب سے متاثرین کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں داخل کرنے کے بعد عدالت نے اپنے موقف کا اظہار کرنے کی اجازت دی تھی ۔


واضح رہے کہ ملزمین کے وکیل شریکانت شیوڑے کی عرضداشت پر فیصلہ صادر کرتے ہوئے خصوصی جج نے ضمانت عرضداشت کی سماعت کو ’’ان کیمرہ‘‘ یعنی  میڈیا کے نمائندوں او ر دیگر لوگوں کی موجودگی کے بغیر کئے جانے کے احکامات جاری کیئے جس کی وجہ سے میڈیا میں ضمانت عرضداشت پرجاری بحث کے متعلق میڈیا میں کوئی خبر نہیں آرہی تھی ۔


آج ممبئی کی خصوصی مکوکا عدالت میں صبح سے ہی ملزمین کے اہل خانہ اور موجود تھے اور انہیں امید تھی کہ خصوصی عدالت متذکرہ ملزمین کو ضمانت پر رہا کئے جانے کے احکامات جاری کرے گی لیکن جمعیۃ علماء اور استغاثہ کی مدلل بحث کے بعد خصوصی جج نے ضمانت عرضداشت مسترد کئے جانے کے حکم نامہ کو جاری کیا۔


جمعیۃ علماء مہاراشٹرقانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کے مطابق مزید تین بھگوا ملزمین کی ضمانت عرضداشت پر سماعت ہونا باقی ہے اور جمعیۃ علماء بطور مداخلت کار ان کی بھی مداخلت کرے گی ۔

First published: Oct 12, 2015 08:46 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading