உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سیاست کی زبان جھوٹی اور خطرناک ہوگئی ہے: ڈاکٹرمنموہن سنگھ

    فائل تصویر

    فائل تصویر

    نئی دہلی: سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ ملک میں سیاسی بات چیت خطرناک اور جھوٹی ہوگئی ہے، جس میں جمہوری نظام کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

    • Share this:
      جالندھر: سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ ملک میں سیاسی بات چیت خطرناک اور جھوٹی ہوگئی ہے، جس میں جمہوری نظام کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ پروفیسر اے بی رنگنیکرمیموریل لیکچر کو خطاب کرتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی کے سابق طالب علم اور کانگریس رہنمانے کہا کہ یہ وقت خود سے سوال پوچھنے کاہے کہ کیا آزادی کے 70 سال کے بعد ہم جمہوریت کے ساتھ صبر کو کھو رہے ہیں؟سابق وزیر اعظم نے طلباء اور اساتذہ سے خطاب کے دوران کہاکہ 'ہمیں خود سے کہنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں جمہوریت میں خود سے پوچھنے کی ضرورت ہے کہ کیاہم صبر کھو رہے ہیں اور مزید آمریت کا متبادل تلاش رہے ہیں۔ جس سے کچھ وقت کے لئے بہتر نتائج حاصل ہو سکتے ہیں، لیکن طویل عرصے سے یہ ہمارے ملک اور گزشتہ 70 سالوں کی کامیابی کو تباہ کرے گا۔
      انہوں نے کہا "گورننس ایک پیچیدہ عمل ہے، اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس کے فوائد طویل مدتی ہیں۔ اس کے لئے بہت صبر کی ضرورت ہے۔سب سے بڑھ کر جمہوریت ایک ایسا نظام ہے جس میں لوگوں کے پاس بغیر مخصوص حقوق کے حکومت میں ایک فیصلہ کن آواز ہوتی ہے، اگر یہ کھو جاتی ہے تو جمہوریت بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے۔ " سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے مزید کہاکہ ڈاکٹر امبیڈکر اس بات کو لے کر فکر مند تھے کہ وہ دن آسکتاہے جب عوام کے لئے سرکار کو پسند کیاجائے گا، نہ کی عوام کواور نہ عوام کی حکومت کو۔ اسے انہو ں نے ایک بڑے خطرے کے طور پر دیکھاتھا"۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں 70ویں سالگرہ کے موقع پر یہ ضرور طے کرنا چاہئے کہ ہم عوام کے ذریعہ عوام کی حکومت کے بجائے عوام کے لئے سرکار چننے کے جال میں نہ پھنسیں۔
      First published: