ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

گوا میں بی جے پی حکومت کی مشکلات میں اضافہ، کانگریس کھیل سکتی ہے یہ داوں

حکومت کی سب سے بڑی اتحادی فارورڈ منچ کے وجے سردیسائی نے دھمکی دی ہے کہ اگرایک ماہ میں گوا میں کانکنی کے بارے میں مرکزی حکومت نے فیصلہ نہیں لیا تووہ کچھ اورسوچنے پرمجبورہوں گے۔ وہیں کانگریس نے بھی تیاری شروع کردی ہے۔

  • Share this:
گوا میں بی جے پی حکومت کی مشکلات میں اضافہ، کانگریس کھیل سکتی ہے یہ داوں
گوا کے وزیراعلیٰ منوہرپاریکر: فائل فوٹو

تین ریاستوں میں بی جے پی کی شکست کے ساتھ ہی ملک کے چھوٹی سی ریاست گوا میں بھی سیاسی ہلچل تیزہونے لگی ہے۔ اب گوا کی منوہرپاریکرحکومت کو خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ حکومت کی سب سے بڑی اتحادی فارورڈ منچ کے وجے سردیسائی نے دھمکی دی ہے کہ اگرایک ماہ میں گوا میں کانکنی کے بارے میں مرکزی حکومت نے فیصلہ نہیں لیا تووہ کچھ اورسوچنے پرمجبورہوں گے۔


سردیسائی کے دم پرگوا کی حکومت چل رہی ہے۔ گوا میں بی جے پی کے 40 میں سے 14 ممبران اسمبلی ہیں اوران کو سردیسائی کے تین اوردیگرآزاد ممبران اسمبلی کے ساتھ ہی مہاراشٹرگومانتک پارٹی کے تین یعنی کل 9 ممبران اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ اگردیسائی ساتھ چھوڑدیتے ہیں توحکومت گرجائے گی۔


دوسری جانب کانگریس نے پارٹی چھوڑکربی جے پی میں گئے کانگریسی لیڈروشوجیت رانے کووزیراعلیٰ عہدہ آفرکرنے کا من بنالیا ہے۔ دراصل وزیراعلیٰ پاریکرمسلسل بیمارچل رہے ہیں اوراب وہ کسی سیاسی پروگرام میں یا دفترتک نہیں جاتے ہیں۔ عدالت میں بھی اس کو لے کرعرضی دی گئی ہے، جس میں پاریکرکی صحت کی اطلاع مانگی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تین اوروزرا شدیدطورپربیمار ہیں اورعلاج کے لئے بیرون ممالک جاتے رہتے ہیں۔ ایسے میں اب پاریکرحکومت کمزورچل رہی ہے۔


ظاہرہے کہ کانگریس موقع کی تلاش میں ہے۔ اب تک کانگریس میں وشوجیت رانے کی مخالفت ہورہی ہے، لیکن بتایا جارہا ہے کہ بی جے پی کو جھٹکا دینے کے لئے کانگریس خود کوجھکاکرآگے بڑھ سکتی ہے۔ رانے کواپنے والد کی پارٹی مہاراشٹروادی گومانتک پارٹی میں جانے کا بھی آفردیا گیا ہے۔

سندیپ سونولکرکی رپورٹ
First published: Dec 13, 2018 07:12 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading