ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

شیعہ برادری میں وسیم رضوی کی کوئی حیثیت نہیں، کرسی بچانے کیلئے وہ حکومت کی زبان بول رہے ہیں :  مولانا اختر رضوی

شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی کی جانب سے اکثر کوئی نہ کوئی متنازع بیان سامنے آہی جاتا ہے ۔

  • ETV
  • Last Updated: Mar 02, 2018 07:51 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
شیعہ برادری میں وسیم رضوی کی کوئی حیثیت نہیں، کرسی بچانے کیلئے وہ حکومت کی زبان بول رہے ہیں :  مولانا اختر رضوی
شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی کی جانب سے اکثر کوئی نہ کوئی متنازع بیان سامنے آہی جاتا ہے ۔

احمد آباد : شیعہ سینٹرل وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی کی جانب سے اکثر کوئی نہ کوئی متنازع بیان سامنے آہی جاتا ہے ۔ ابھی کچھ دنوں پہلے بورڈ کی جانب سے ایک تجویز آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کو بھیجی گئی ہے جس میں مندر اور مسجد کا ذکر کیا گیا ہے ۔ وسیم رضوی کی اس تجویز کی جہاں کھل کر مخالفت کی جارہی ہے وہیں احمد آباد کے شیعہ علما بھی وسیم رضوی کے خلاف نظر آ رہے ہیں ۔

احمد آباد کے وٹوا علاقے میں دینی مدارس حوجہ علمیہ چلانے والے مولانا اختر رضوی نے شیعہ بورڈ چیئرمین وسیم رضوی پر بڑا حملہ بولا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ شیعہ برادری میں وسیم رضوی کی کوئی حیثیت نہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے شیعہ سینٹرل وقف بورڈ پر بھی سوال کھڑا کیا ۔ مولانا اختر نے کہا کہ شیعہ وقف بورڈ شیعوں کی کوئی تنظیم نہیں بلکہ حکومت کا ایک ادارہ ہے ، جس میں حکومت اپنی ہاں میں ہاں ملانے والوں کی تقرری کرتی ہے۔

مولانا رضوی نے مزید کہا کہ وسیم رضوی ظاہری طور پر تو چہرہ سے مسلمان بھی نہیں لگتے ہیں ۔ وہ اپنی کرسی بچانے کیلئے حکومت کی زبان بول رہے ہیں اور حکومت بھی ان کا ایک لاوڈ اسپیکر کے طور پر استعمال کررہی ہے ۔ وہ خاص پارٹی کیلئے 2019 کی تیاری کیلئے کام کررہے ہیں ۔ وسیم رضوی کی شیعہ قوم میں کوئی اہمیت نہیں ہے بلکہ وہ ایک عام انسان ہیں۔

First published: Mar 02, 2018 07:18 PM IST