ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

شریعت کا تحفظ مسلمانوں کا ملی ودینی فریضہ، مذہبی معاملات میں مداخلت برداشت نہیں : مولانا اسرارالحق

نوساری۔ ہندوستان میں مسلمان اپنی مذہبی آزادی اور تشخص کے ساتھ زندگی گزارناچاہتے ہیں اور وہ اپنے مذہبی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت کو برداشت نہیں کریں گے، کیوں کہ اپنے دین اور شریعت کا تحفظ مسلمانوں کا نصب العین ہے۔

  • ETV
  • Last Updated: Nov 08, 2016 05:00 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
شریعت کا تحفظ مسلمانوں کا ملی ودینی فریضہ، مذہبی معاملات میں مداخلت برداشت نہیں : مولانا اسرارالحق
معروف عالم دین وممبر پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی: فائل فوٹو۔

نوساری۔ ہندوستان میں مسلمان اپنی مذہبی آزادی اور تشخص کے ساتھ زندگی گزارناچاہتے ہیں اور وہ اپنے مذہبی معاملات میں کسی بھی قسم کی مداخلت کو برداشت نہیں کریں گے، کیوں کہ اپنے دین اور شریعت کا تحفظ مسلمانوں کا نصب العین ہے۔ان خیالات کا اظہار معروف عالم دین وممبرپارلیمنٹ مولانااسرارالحق قاسمی نے گجرات کے اپنے اصلاحی وتبلیغی دورے کے دوران نوساری،گجرات میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔

مولانا نے تاریخی حوالوں سے بتایا کہ ہمارے نبی نے مدینہ منورہ ہجرت کرنے کے بعدوہاں پہلے سے موجود تمام مذاہب کے ماننے والوں سے ایک پر امن معاہدہ کیا اور سب کوامن و امان کے ساتھ زندگی گزارنے کامکمل حق دیا گیا،اسی طرح ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد پر امن طریقے سے ہوئی تھی اورپہلی صدی ہجری میں جب وہ گجرات میں وارد ہوئے تویہاں کے بادشاہ نے انسانیت نوازی کا ثبوت دیتے ہوئے مکمل مذہبی آزادی دی اور پھر مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے مسجد ومدرسوں کا قیام بھی عمل میں آیا۔


مولانا قاسمی نے جنگ آزادی میں مسلمانوں کے نمایاں کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ1757ء سے لے کر1857ء سے پہلے تک ہندوستان کی تحریکِ آزادی میں مسلمان ہی آگے آگے رہے اور انھوں نے قائدانہ کردارادا کیا،اس کے بعد1857ء سے لے کر 1947ء تک ملک کی تمام قوموں اور برادریوں کے ساتھ مل کرآزادی کی جنگ لڑی یہاں تک کہ ملک آزاد ہوگیا اور پھرملک کا ایک ایسا دستور بنایا گیا جس میں تمام مذاہب کے لوگوں کومکمل آزادی اور حقوق دیے گئے اور یہ واضح کیا گیا کہ اس ملک میں جتنے بھی مذاہب کے ماننے والے ہیں انھیں اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کی بھرپورآزادی ہوگی اور پھراسی دستورکے مطابق ہندوستان کے مستقبل کا سفرشروع ہوا۔ مولانا قاسمی نے کہا کہ جس وقت جنگ آزادی میں ملک کے ہندواور مسلمان دونوں مل کر اپنی جان مال قربان کررہے تھے اس وقت مٹھی بھرایسے لوگ بھی تھے جو انگریزوں کی خوشامد میں لگے ہوئے تھے، افسوس کی بات ہے کہ آج وہی لوگ اقتدارپر قابض ہوگئے ہیں اوروہ پورے ملک پر اپنا تشدد پسندانہ نظریہ تھوپناچاہتے ہیں، ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے یہاں کے لوگوں اور یہاں کی زمین کی یہ صفت ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے تشدد پسندانہ نظریات کوقبول نہیں کر سکتی ، اس لیے جو فرقہ پرست طاقتیں ملک کے باشندوں کے درمیان منافرت کی دیوارحائل کر دینا چاہتی ہیں ان کی مذموم کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔


مولانااسرارالحق نے کہا کہ دستورہندکی دفعہ25؍کے تحت اس ملک کے تمام شہریوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے اوراس میں کسی بھی حکومت کودخل دینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور جولوگ دستورِ ہند میں چھیڑچھاڑکرناچاہتے ہیں وہ ملک کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ جامعہ تعلیم الدین ڈابھیل کے استاذ حدیث مفتی محمودبارڈولی نے کہاکہ مسلمانوں کواپنے دین کے تحفظ کے لیے ہر قسم کی قربانی کے لیے تیاررہناچاہیے اور حکومت وقت کی سازشوں سے ہوشیاررہ کرقرآن و حدیث کواپنے لیے نمونۂ عمل بنائیں۔


First published: Nov 08, 2016 05:00 PM IST