ہوم » نیوز » No Category

جمہوری طریقے سے اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے ہمیں آگے آنا چاہئے: مولانا مجددی

جے پور۔ جمہوریت ہمیں اظہار خیال کی آزادی، بول چال کی آزادی،کھانے پینے ‘،رہن سہن کی آزادی، اپنے ادارے قائم کرنے کی آزادی،اپنے حقوق کامطالبہ کرنے اور لینے کی آزادی دیتی ہے اور سارے جمہوری حقوق ہمیں حاصل کرنا چاہئے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 26, 2016 05:17 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
جمہوری طریقے سے اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے ہمیں آگے آنا چاہئے: مولانا مجددی
جے پور۔ جمہوریت ہمیں اظہار خیال کی آزادی، بول چال کی آزادی،کھانے پینے ‘،رہن سہن کی آزادی، اپنے ادارے قائم کرنے کی آزادی،اپنے حقوق کامطالبہ کرنے اور لینے کی آزادی دیتی ہے اور سارے جمہوری حقوق ہمیں حاصل کرنا چاہئے۔

جے پور۔ جمہوریت ہمیں اظہار خیال کی آزادی، بول چال کی آزادی،کھانے پینے ‘،رہن سہن کی آزادی، اپنے ادارے قائم کرنے کی آزادی،اپنے حقوق کامطالبہ کرنے اور لینے کی آزادی دیتی ہے اور سارے جمہوری حقوق ہمیں حاصل کرنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار یوم جمہوریہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحیم مجددی نے کیا۔امام ربانی سینئر سیکنڈری اسکول جے پور میں منعقدہ تقریب میں انہوں نے کہا کہ آج جمہوریت کو دنیا  تہذیب و تمدن کی علامت اور ایک فطری طرز حکومت کے طور پر تسلیم کرچکی ہے اور بیشترممالک میں جمہوری نظام قائم ہوچکا ہے اور جہاں قائم نہیں ہوسکا وہاں بھی جدوجہد جاری ہے۔ لیکن ساتھ ہی مولانا نے کہا کہ ایک صدی قبل دنیا کی جمہوریت سے جو توقعات وابستہ تھیں وہ آج تک پوری نہیں ہوسکیں۔ اس کی وجوہات غالباََ یہ ہیں کہ جمہوریت کے علمبرداروں اور اس کا خیر مقدم کرنے والوں نے درحقیقت اس کے مفہوم کو آج تک خود بھی نہیں سمجھا اور وہ اس غلط فہمی مبتلا رہے کہ اس نظام کے قائم ہوتے ہی ازخود ہر طرف  آزادی و مساوات کا دوردورہ ہوجائے گا۔ مگریہ ایسا خواب تھا کہ جو آج تک شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔


مولانا نے کہا کہ آبادی کے لحاظ سے ہندوستان دنیا کی سب سب بڑی پارلیمانی غیر مذہبی جمہوریت ہے۔اس کے دستور کی اہم خصوصیات ہیں اور آئین ہند نے یہاں کے شہریوں کو حکومت کا انتخاب کرنے کے لئے خود مختار بنایا ہے اور ہندوستانی عوام کو ہی اقتدار و اختیار کا سرچشمہ مانا جاتاہے اور 42ویں ترمیم کی رو سے اسے سیکولر اسٹیٹ قرار دیا گیا ہے جہاں ہر مذہب کا احترام ہوگااور مذہب کی بنیاد پر کسی قسم کا کوئی امتیاز نہیں ہوگا۔

انہوں نے ہندوستان کی جمہوریت کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں دستور سازی کا کام دسمبر 1946 سے لیکر دسمبر 1949 تک انجام پایا اور 9دسمبر 1946کو اس کی پہلی میٹنگ ہوئی تھی۔ 1946کے اواخراور 1947کے اوائل میں مسلم لیگ کے بیشتر ممبران نے شرکت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ دستور ساز اسمبلی کے 28 ارکان کے علاوہ بہت سے دیگر مسلمانوں نے بھی شرکت کی تھی اور انہوں نے اپنی مہارت‘ بے لاگ تبصرہ اور منصفانہ تجزیوں اور دلائل و براہین سے دستور ہند کو سجانے سنوارنے میں اہم کردار ادا کیا۔


امام ربانی سینئر سیکنڈری اسکول کی وائس چیرمین ثمرہ سلطانہ نے اس موقع پر مولانا سید محمد میاں کی حیات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مولانا کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ اوائل عمر میں ہی آزادی کے سپاہی بن گئے تھے اور برطانوی استعمار کے خلاف لڑنا ان کا مزاج تھا۔جدوجہد آزادی کے دوران پانچ بار جیل جانا پڑا اور مرادآباد‘ دہلی‘ میرٹھ‘ بریلی اور فیض آباد کی جیلوں میں قید رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو آزادی اور جمہوریت ہمارے بزرگوں کی قربانی سے ملی ہے اور ہمارے بزرگوں نے ہر موقع پر آزادی کی تحریک میں قائدانہ رول ادا کیا ۔ مولانا محمد میاں صاحب ہندوستان چھوڑو تحریک کو کامیاب بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ گمنام ہینڈ بل اور پمپلفٹ لکھ کر جگہ جگہ بھیجتے رہے۔

First published: Jan 26, 2016 05:16 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading