உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یکساں سول کوڈ کا نفاذ مرکز کی مودی حکومت کے لئے ممکن نہیں : مولانا ولی رحمانی

    مولانا ولی رحمانی: فائل فوٹو

    مولانا ولی رحمانی: فائل فوٹو

    مولانا سید ولی رحمانی نےمالیگاؤں شہر کادورہ کیا ۔ یہاں مولانا نے کہا کہ حکومت کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      مالیگاؤں۔’’ مودی حکومت کی نیت صاف نہیں ہے ۔ حکومت بار بار شریعت میں مداخلت کی کوشش کررہی ہے ۔ مگر یکساں سول کوڈ کا نفاذ حکومت کے لئے ممکن نہیں کیونکہ ملک میں بسنے والی دیگر قوموں کےلئے بھی یہ درد سر ہوسکتا ہے‘‘ ۔  ان خیالات کا اظہار آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا سید ولی رحمانی نے مالیگاؤں شہر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ مالیگاؤں شہرمیں علمائے  کرام اور دانشوران کے ساتھ مولانا موصوف نے ایک اہم میٹنگ کی اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذریعہ چلائی جانے والی دستخطی مہم کا بھی جائزہ لیا ۔


       مولانا سید ولی رحمانی نےمالیگاؤں شہر کادورہ کیا ۔ یہاں مولانا  نے کہا کہ حکومت کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔  انہوں نے کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے حالیہ  اجلاس کو دیکھ کرحکومت کے کارندوں میں ہلچل مچ گئی ہے ۔ مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے کے تعلق سے موصوف نےمزید کہا کہ عدالت اپنے دائرہ کار سے بڑھ کر فیصلے دے رہی ہے ۔ سپریم کورٹ نےپہلے ہی کہہ دیا ہے کہ دارالقضا اور شرعی عدالتیں ملک کے قانون سے متصادم نہیں ہیں ۔ پھر بھی اس طرح کی باتیں وقتاً فوقتاً اٹھا کر بد گمانی پیدا کی جارہی ہے ۔ گذشتہ دنوں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ مسلم خواتین پر ظلم وزیادتی کی جاتی ہے۔ حکومت ان کو حق دیگی ۔ اس تعلق سے مولانا نے کہا کہ مودی جی خود گذشتہ 30 سے 35 سالوں سے اپنی بیوی کے ساتھ انصاف نہیں کرپائے ہیں اوروہ بیچاری گمنامی کی زندگی گذار رہی ہے۔


      مودی سرکارپرتنقید کرتےہوئے مولانا رحمانی نے کہا کہ مودی ہر محاذ پرناکام ہوتے نظر آ رہے ہیں ۔ اس لیے وہ لوگوں کو جذبات میں بہکا کر اپنے ووٹ پکجا کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ نوٹ بندی کے فیصلے سے ملک کو بہت بڑا نقصان ہوا ہے اور سبھی لوگ پریشان ہیں ۔ نوٹ بندی کے اس فیصلے سے دہشت گردی کم ہوگی یہ غلط ہے ؟ نوٹ بندی کے فیصلے کے بعد سی بی آئی نے ہندوستان کے  دینی مدارس  کو نشانہ بنا کران کی جانچ شروع کردی ہے ۔ پچھلی مرتبہ مدارس دیینہ کو دہشت گردی کے اڈے ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور اب انہیں سی بی آئی کے ذریعے ہراساں کیا جارہا ہے ۔


      First published: