உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    خواجہ کی نگری اجمیر شریف میں مولانا محمود مدنی کے ہاتھوں میڈیکل کیمپ کا افتتاح

    مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علما ء ہند حضـرت غریب نوازؒ کی اسی فکر پر قائم ہے اور اس نے اپنے سوسالہ دور میں خدمت خلق کے راستے سے اسلام کے پیغام محبت کو عام کرنے کی کوشش کی ہے ۔

    مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علما ء ہند حضـرت غریب نوازؒ کی اسی فکر پر قائم ہے اور اس نے اپنے سوسالہ دور میں خدمت خلق کے راستے سے اسلام کے پیغام محبت کو عام کرنے کی کوشش کی ہے ۔

    اجمیر شریف؍ نئی دہلی ۔ کل یہاں خواجہ کی نگری اجمیر شریف میں جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کے ہاتھوں میڈیکل کیمپ کا افتتاح عمل میں آیا جو دس روزہ عرس کے دوران زائرین کے لیے طبی خدمات فراہم کرے گا ۔

    • Share this:

      اجمیر شریف؍ نئی دہلی ۔ کل یہاں خواجہ کی نگری اجمیر شریف میں جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کے ہاتھوں میڈیکل کیمپ کا افتتاح عمل میں آیا جو دس روزہ عرس کے دوران زائرین کے لیے طبی خدمات فراہم کرے گا ۔ اس سلسلے میں کائیڈ وشرام استھلی میں ایک افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس میں انجمن خواجگان کے صدر معین الدین چشتی ، شاہ نصیرالدین چشتی شیر محمد صاحبزادہ سید زین العابدین چشتی دیوان درگاہ شریف، عبدالواحد چشتی انگارہ سمیت درگاہ سے وابستہ کئی شخصیات موجود تھیں۔ سبھوں نے مل کر وہاں موجود ایمبولینس کو ہری جھنڈی دکھائی ۔


      اس موقع پر مولانا محمود مدنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمہ اللہ اس ملک کی عظیم مشترکہ وراثت کا حصہ ہیں۔ انھوں نے اپنے حسن اخلاق و کردار سے لاکھوں دلوں کو بدلا۔ حضرت غریب نوازؒ نے ہمیشہ اتفاق کا درس دیا اور ساری انسانیت کے درمیان برابری اور امن قائم کیا ۔ انھوں نے اپنی عملی زندگی کے ذریعہ ثابت کیا کہ تصوف نہ علم ہے اور نہ رسم بلکہ یہ خدا کی محبت اور بلا تفریق اس کے بندوں کی خدمت کے مجموعہ کا نام ہے ۔ حضرت خواجہ غریب نوازؒ فرماتے تھے کہ اصل فقیری یہ ہے کہ دریا کی سی سخاوت ، سورج کی طرح شفقت اور زمین جیسی تواضع ہو کیوں کہ یہ تینوں چیزیں بلا بھید بھائو سب کو فائدہ پہنچا تی ہیں۔


      مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علما ء ہند حضـرت غریب نوازؒ کی اسی فکر پر قائم ہے اور اس نے اپنے سوسالہ دور میں خدمت خلق کے راستے سے اسلام کے پیغام محبت کو عام کرنے کی کوشش کی ہے ۔ مولانا مدنی نے اس بات پر زور دیا کہ تصوف کو محض رسم تک محدو د نہ کیا جائے بلکہ اس کے روحانی پیغام کو عام کیا جائے کیوں کہ آج کے دور میں نفرت و فرقہ پرستی کے خاتمے میں اس کا بڑا کردار ہوگا۔ مولانا مدنی نے کہا کہ اس سرزمین سے انھیں کافی محبت ملی ہے ، یہ وہ مقام ہے جہاں سے دلوں کو جوڑنے کا پیغام موثر طریقے سے جاتا ہے ۔ ہم نے اسی مشن کے تحت زائرین کی خدمت کے لیے گزشتہ سال میڈیکل کیمپ شروع کیا ہے اور ان شاء اللہ یہ جاری رہے گا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ ہمارا مل جل کر چلنا لوگوں کے دلوں سے نفرت و دوری کو ختم کرے گا اور ملت اسلامیہ کے سبھی طبقات مل کر مشترکہ مسائل میں ایک ساتھ کام کریں گے ۔

      First published: