ہوم » نیوز » No Category

فساد زدگان کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے سید معین نے عمر کھیڑ کا کیا دورہ

فساد متاثرین کے حالا ت کا جائزہ لینے کیلئے ایم آئی ایم کے ریاستی صدر سید معین اور رکن اسمبلی امتیاز جلیل پر مشتمل ایک وفد نے اتوار کوعمر کھیڑ کا دورہ کیا ۔

  • ETV
  • Last Updated: Sep 19, 2016 04:17 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
فساد زدگان کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے سید معین نے عمر کھیڑ کا کیا دورہ
فساد متاثرین کے حالا ت کا جائزہ لینے کیلئے ایم آئی ایم کے ریاستی صدر سید معین اور رکن اسمبلی امتیاز جلیل پر مشتمل ایک وفد نے اتوار کوعمر کھیڑ کا دورہ کیا ۔

ناندیڑ۔ ایوت ضلع کے عمر کھیڑ میں گنیش وسرجن کے دوران ہونے والے فرقہ وارانہ فساد سے بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے ہیں ۔ فساد متاثرین کے حالا ت کا جائزہ لینے کیلئے ایم آئی ایم کے ریاستی صدر سید معین اور رکن اسمبلی امتیاز جلیل پر مشتمل ایک وفد نے اتوار کوعمر کھیڑ کا دورہ کیا ۔ اس دوران ایم آئی ایم قائدین نے جہاں ایک طرف فساد متاثرین سے ملاقات کی تو وہیں انہوں نے پارٹی کی جانب سے پچاس ہزار روپئے کی امداد بھی پیش کی اور ان کے ساتھ ہو رہی ناانصافیوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ مزید برآں، پولیس محکمہ  سے بھی بے گناہوں کی گرفتاری کے سلسلے کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ۔


ضلع ایس پی اکھیلیش کمار نے ایم آئی ایم قائدین کو بھروسہ دلایا کہ پولیس بے گناہوں کے خلاف کارروائی نہیں کرے گی اور جن لوگوں کو گرفتارکیا گیا ہے ان  میں سے جن کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملیں گے انہیں جلد ہی رہا کردیا جائے گا۔ ایم آئی ایم کے ریاستی صدر سید معین نے پولیس کی کارروائی پر سوالات اٹھاتے ہوئےعدم اطمینان کا اظہار کیا۔  قائدین کے دورے سے عمر کھیڑ کے مسلمانوں کو کافی حوصلہ ملا ہے ۔


واضح ہو کہ ایوت محل ضلع کے عمر کھیڑ میں گنیش وسرجن کے دوران ہونے والے فرقہ وارانہ فساد میں مقامی لوگ بڑی تعداد میں متاثر ہوئے ہیں ۔ کئی مکانات تو ایسے ہیں جن میں کئی کئی افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور آج وہ بے سہارا ہوگئے ہیں ۔ فساد کے دوران مسلم طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی تین دکانیں بھی جلائی گئیں ۔ پولیس کی جانب سے ہورہی گرفتاریوں سے لوگوں میں ایسا خوف بیٹھ گیا ہے کہ بیشتر افراد اپنے اپنے مکانات کو خالی کرکے عارضی طورپر محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے ہیں ۔ جس کی وجہ سے شہر میں ان دنوں چاروں طرف سناٹے کا ماحول چھایا ہوا ہے ۔ پولیس اور شرپسندوں کے مظالم کے شکار بنائے گئےمسلمانوں میں سے ہر ایک کی یہ شکایت ہے کہ ان کے ساتھ ظلم و بربریت کا مظاہرہ کیا گیا ۔ فسادیوں نے عورتوں کے ساتھ بد تمیزی کا مظاہرہ کیا ۔انہیں ایسے نعرے لگانے پر مجبو ر کیا گیا جو وہ نہیں بولنا چاہتی تھیں ۔ فساد کے فوری بعد رات کے وقت پولیس نے کا مبنگ آپریشن چلایا جس میں اندھا دھند گرفتاریاں کی گئیں ۔گرفتاریوں کے دوران بھی پولیس کا رویہ نہایت ظالمانہ انداز کا رہا،  جس کولیکر مقامی لوگوں میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے ۔


 ادھر پولیس نے 35 سے زائد اقلیتی طبقہ کے نوجوانوں کو گرفتارکیا ہے جبکہ 12 اکثریتی طبقہ کے افراد کو ملزم بنایا گیا ہے ۔ملزمین کو عدالت میں پیش کئے جانے پر عدالت نے انہیں چار دن کی پولیس تحویل میں بھیج دیا ہے ۔ جن افراد کو ملزم بنایا گیا ہے ان میں ایک کا تعلق بجرنگ دل سے ہے ۔ سیاسی دباؤ میں آکر پولیس نے اس شخص کا نام ایف آئی آر میں شامل ہونے کے باوجود چھوڑ دیا ہے جس کی وجہ سے پولیس کی کاروائی پر جانب داری کا الزام لگایا جارہا ہے ۔جبکہ پولیس اس بات سے انکار کررہی ہے ۔

First published: Sep 19, 2016 04:17 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading