ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

مشن پانی: راجستھان کے سینکڑوں گاوں میں پانی کے بحران کے حل میں مدد کرنے والی آملہ روییا سے ملیں

آملہ کے ٹرسٹ نے راجستھان میں 2006 سے 2018 تک 317 چیک ڈیم بھی تعمیر کیے ہیں جن سے براہ راست طور پر فائدہ 182 گاوں نے اٹھایا ہے۔ آملہ کے مطابق، ان گاؤں نے اپنی طرز زندگی میں بہتری کا تجربہ کیا ہے اور یہاں تک کہ انہیں خط افلاس سے بھی باہر لایا ہے۔

  • Share this:
مشن پانی: راجستھان کے سینکڑوں گاوں میں پانی کے بحران کے حل میں مدد کرنے والی آملہ روییا سے ملیں
آملہ کے ٹرسٹ نے راجستھان میں 2006 سے 2018 تک 317 چیک ڈیم بھی تعمیر کیے ہیں جن سے براہ راست طور پر فائدہ 182 گاوں نے اٹھایا ہے۔

پانی جیسے اہم قدرتی وسائل کی پائیداری وقت کی ضرورت ہے جیسا کہ گذشتہ ایک سال میں کورونا وائرس وبا کے درمیان حفظان صحت کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ملک میں بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں پینے کے پانی کی بھی کمی ہے۔ ایسا ہی ایک خطہ جہاں پانی کے تحفظ کے لئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے راجستھان ہے۔ آملہ روییا جو اترپردیش میں پیدا ہوئیں اور پرورش پائیں ، کو اس مسئلے کے مضر اثرات کا ادراک اس وقت ہوا جب 1998 میں راجستھان کی شدید خشک سالی کی خوفناک تصاویر منظر عام پر آئیں۔


ان تصاویر نے ان پر دیرپا اثر ڈالا اور پانی کی قلت کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے ٹھوس حل تلاش کرنے کے لئے انہیں ترغیب ملی۔ آخر کار انہوں نے آکار چیریٹیبل ٹرسٹ قائم کیا جو اب قحط زدہ گاوں میں پانی کے ذخائر کے لئے چیک ڈیم بنانے کے لئے کام کرتا ہے۔


آکار چیریٹیبل ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ ٹرسٹ نے سال 2000 سے 2005 کے دوران 200 پینے کے پانی کے کنڈ ، روایتی پانی جمع کرنے والے علاقے بنائے ہیں۔ یہ کنڈز اب ایسے دور دراز علاقوں میں ہر سال بارش سے مجموعی طور پر ایک کروڑ لیٹر خالص قدرتی پینے کا پانی جمع کرتے ہیں جہاں حکومت کی سپلائی کا پانی دستیاب نہیں ہے۔ ان علاقوں کے گاوں نے کل تعمیراتی لاگت میں سے 25 فیصد کا تعاون کیا ہے۔


آملہ کے ٹرسٹ نے راجستھان میں 2006 سے 2018 تک 317 چیک ڈیم بھی تعمیر کیے ہیں جن سے براہ راست طور پر فائدہ 182 گاوں نے اٹھایا ہے۔ آملہ کے مطابق، ان گاؤں نے اپنی طرز زندگی میں بہتری کا تجربہ کیا ہے اور یہاں تک کہ انہیں خط افلاس سے بھی باہر لایا ہے۔ ایسے چیک ڈیموں کے ذریعہ پانی کی دستیابی سے براہ راست اور بالواسطہ طور پر مجموعی لحاظ سے 4،82،900 افراد نے فائدہ اٹھایا ہے۔

یہ ٹرسٹ راجستھان میں کم سے کم قیمت پر بہتر تعلیم کے لئے بھی کام کرتا ہے۔

 
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jan 20, 2021 05:41 PM IST