உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    خواتین کے ساتھ بیحد ہی گندی حرکتیں کرتا تھا سکیورٹی گارڈ انچارج، ایم این ایس ورکروں نے کی جم کر پٹائی ہو گیا بیہوش

     مہاراشٹر ایم این ایس کے کارکنوں اور خواتین نے گارڈ کی جم کر پٹائی کرڈالی۔ یہ واقعہ مہاراشٹر کے امراوتی میں پیش آیا جہاں سکوریٹی گارڈ انچارج کو اتنا مارا گیا کہ وہ بے ہوش ہوگیا۔

    مہاراشٹر ایم این ایس کے کارکنوں اور خواتین نے گارڈ کی جم کر پٹائی کرڈالی۔ یہ واقعہ مہاراشٹر کے امراوتی میں پیش آیا جہاں سکوریٹی گارڈ انچارج کو اتنا مارا گیا کہ وہ بے ہوش ہوگیا۔

    مہاراشٹر ایم این ایس کے کارکنوں اور خواتین نے گارڈ کی جم کر پٹائی کرڈالی۔ یہ واقعہ مہاراشٹر کے امراوتی میں پیش آیا جہاں سکوریٹی گارڈ انچارج کو اتنا مارا گیا کہ وہ بے ہوش ہوگیا۔

    • Share this:
    خواتین کے ساتھ فحش حرکت کرنا سیکوریٹی گارڈ کے انچارج کو مہنگا پڑ گیا۔ مہاراشٹر ایم این ایس کے کارکنوں اور خواتین نے گارڈ کی جم کر پٹائی کرڈالی۔ یہ واقعہ مہاراشٹر کے امراوتی میں پیش آیا جہاں سکوریٹی گارڈ انچارج کو اتنا مارا گیا کہ وہ بے ہوش ہوگیا۔ دراصل 50 سالہ ارون گاڈوے امراوتی رمس اسپتال کے سکوریٹی گارڈ کا انچارج ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے اپنے عملے کی خواتین کے ڈریس کوڈ کی پیمائش کی آڑ میں فحش حرکتیں کیں۔ یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ وہ خواتین کو دھمکیاں دیتا تھا کہ اگر انہوں نے انکار کیا تو انہیں نوکریوں سے نکال دیا جائے گا۔

    خواتین نے اس معاملے کی شکایت ایم این ایس کارکنوں سے کی جس کے بعد ایم این ایس کارکنوں نے ارون گاڈوے کو بیچ راستے میں روک لیا اور تھپڑ رسید کر دیا۔ بعد میں ایم این ایس کارکنوں نے اسے راجہ پیٹھ پولیس اسٹیشن کے حوالے کیا جہاں اس کے خلاف چھیڑ چھاڑ کا مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ایم این ایس ورکروں کے مطابق رمس اسپتال کے سکوریٹی انچارج خواتین ملازمین کے ساتھ فحش حرکتیں کرتا تھا۔ آج اس نے حد پار کر لی ہے ، اس نے لباس کی پیمائش لینے کی آڑ میں خواتین کے ساتھ فحش حرکتیں کیں۔

    خواتین ملازمین نے ہمارے عہدیداروں سے شکایت کی جس کے بعد ایم این ایس کارکنوں نے سیکوریٹی انچارج ارون گاڈوے سے پوچھ گچھ کی۔ پھر ایم این ایس کے کارکنوں نے اس پر تھپڑوں کی بارش شروع کردی۔ ایم این ایس کارکنوں اور خواتین نے اسے اتنا مارا کہ وہ بے ہوش ہو گیا۔ کچھ عہدیداروں نے اسے ایک گاڑی میں بٹھایا اور اسے راجہ پیٹھ پولیس اسٹیشن کے حوالے کردیا۔

     
    Published by:Sana Naeem
    First published: