உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

     لوگوں کے ساتھ یہ گروپ کرتا تھا انتہائی گھٹیا کام، پولیس نے کیا پردہ فاش

    کرائم برانچ افسران کے مطابق ان ملزمین کے بارے میں انھیں معلومات ملی جس کے بعد جال بچھاکر انہیں گرفتار کرلیا۔

    کرائم برانچ افسران کے مطابق ان ملزمین کے بارے میں انھیں معلومات ملی جس کے بعد جال بچھاکر انہیں گرفتار کرلیا۔

    کرائم برانچ افسران کے مطابق ان ملزمین کے بارے میں انھیں معلومات ملی جس کے بعد جال بچھاکر انہیں گرفتار کرلیا۔

    • Share this:
    ممبئی کرائم برانچ کے پراپرٹی سیل نے ایک گروہ کا پردہ فاش کیا ہے جو گروپ بنا کر نشانے پر بیٹھ جاتے تھے اور پھر اس کی توجہ ہٹا کر منظم انداز میں اس کے قیمتی سامان چوری کر لیا کرتے تھے۔ کرائم برانچ افسران کے مطابق ان ملزمین کے بارے میں انھیں معلومات ملی جس کے بعد جال بچھاکر انہیں گرفتار کرلیا۔ اس معاملے میں شکایت کنندہ کے مطابق 13 اپریل کو وہ کسی کام سے بی ایس ٹی بس کے ذریعے بوریولی سے کرافورڈ مارکیٹ جارہے تھے۔

    ان کے پاس 24 لاکھ روپے مالیت کے ہیرے بھی تھے جو اس نے اپنے بیگ میں رکھے تھے۔ تھوڑی دیر بعد کچھ لوگ اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئے اور پھر ایک شخص نے کہا کہ اس کے کپڑے پر کچرا ہے ، پھر دوسرے نے اس کی توجہ مبذول کرائی اور پھر سب نے مل کر بڑی صفائی سے شاہ کا بیگ غائب کردیا۔

    واردات کو انجام دینے کے بعد تمام لوگ بس سے اترے اور پھر شاہ کو پتہ چلا کہ کسی نے بیگ چرا لیا ہے۔ اس کے بعد شاہ نے بوریولی پولیس اسٹیشن میں نامعلوم افراد کے خلاف شکایت درج کروائی۔ کرائم برانچ کے ایک افسر نے بتایا کہ شاہ کی شکایت پر نامعلوم شخص کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 379 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ بوریولی پولیس کے علاوہ پراپرٹی سیل نے بھی تفتیش شروع کردی۔

    پولیس نے بس روٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کو اسکین کرنا شروع کیا اور ایک سی سی ٹی وی فوٹیج میں انہیں معلوم ہوا کہ کچھ لوگ الگ الگ آٹو رکشا میں آ کربس میں سوار ہو رہے ہیں اور تھوڑی دیر بعد نیچے اتر گئے جس کے بعد پولیس نے ان لوگوں کی تلاش شروع کردی۔ اور 5 افراد کو گرفتار کر لیا.گرفتار ملزمین کا نام انیل گائیکواڑعرف آنیا، وشال گائیکواڑ، عبد الجبار عبد العزیز شیخ ، سنجے دلوی ، اور سید رفیق سید نذر علی بتایا گیا ہے۔ پولیس کو ملزمین سے چوری شدہ بیگ ملا اور تفتیش کے دوران پولیس نے ان سے 24 لاکھ مالیت کے ہیرے بھی برآمد کرلئے۔ پولیس اب ان ملزمین کے مجرمانہ ریکارڈ کی تلاش میں کو شاں ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: