ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

اقلیتی اداروں میں ایک جماعت میں 20 طلبہ پر ہی حکومت کو دینی ہوں گی مراعات : ممبئی ہائی کورٹ

اقلیتی تعلیمی اداروں کے تعلق سے ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ نے ایک اہم فیصلہ سنایا ہے ۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں ریاستی حکومت کے 15 نومبر 2011 کو جاری جی آر کو دستور کے خلاف قرار دیدیا ہے

  • ETV
  • Last Updated: Sep 05, 2016 11:33 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اقلیتی اداروں میں ایک جماعت میں 20 طلبہ پر ہی حکومت کو دینی ہوں گی مراعات : ممبئی ہائی کورٹ
بمبئی ہائی کورٹ: فائل فوٹو

اورنگ آباد : اقلیتی تعلیمی اداروں کے تعلق سے ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ نے ایک اہم فیصلہ سنایا ہے ۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں ریاستی حکومت کے 15 نومبر 2011 کو جاری جی آر کو دستور کے خلاف قرار دیدیا ہے اور یہ واضح کردیا ہے کہ اس جی آر کا اطلاق ریاست کے اقلیتی درجے کے تعلیمی اداروں پر نہیں ہوگا۔

پندرہ نومبر سن2011 کو جاری جی آر کے تحت نان گرانٹ اسکولوں کے لیے ایک کلاس میں 30 طلبہ کی تعداد کو لازمی قرار دیا گیا تھا ۔ عام طور سے اقلیتی علاقوں میں جو اسکول کھلے ہیں، ان میں کبھی کبھی یہ تعداد نہیں ہو پاتی ہے اور اگر اسکول ریاستی حکومت کے قانون کے مطابق بند کیے جاتے ہیں ، تو سرو شکشا ابھیان دم توڑتا ہے، جس کا مقصد 100 فی صدی بچوں کو تعلیم یافتہ بنانا ہے۔

مہاراشٹر مائناریٹی سوسائٹیز سنگھرش سمیتی نے اس جی آر کو عدالت میں چیلنج کیا تھا، جس پر عدالت نے اپنا فیصلہ سنایا کیا۔ اس موقع پر سوسائٹیز کی جانب سے پیروی کرنے والے ایڈوکیٹ وی ڈی سپکال کی گلپوشی کی گئی ۔ اقلیتی تعلیمی اداروں کے ذمہ داروں کا ماننا ہے کہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے سے ریاست کے 10 ہزار اقلیتی تعلیمی اداروں کو فائدہ پہنچے گا۔

First published: Sep 05, 2016 11:33 PM IST