உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ذاکرنائک کے ادارے پر پابندی انصاف کے تقاضوں کے ساتھ کھلواڑ: صوبائی جمعیت اہل حدیث، ممبئی

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    صوبائی جمعیت اہل حدیث، ممبئی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈاکٹرذاکرنائک کے ادارے پرلگائی گئی پابندی ملک کے روادارسماج اورسیکولردستورکی معکوس نمائندگی اورانصاف کے تقاضوں کے ساتھ کھلواڑہے،اس لیے جمعیت حکومت سے اس پابندی کوفوراًختم کرنے کامطالبہ کرتی ہے۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:

      ممبئی۔ ’’ وزیراعظم نریندرمودی کی صدارت میں ہونے والے مرکزی کابینہ کے اجلاس میں ملک کے معروف اسلامی مبلغ ڈاکٹرذاکرنائک کے ادارے ’’اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن ‘‘پرپانچ برس کے لیے پابندی عائد کردی گئی ہے۔ صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی یہ سمجھتی ہے کہ ڈاکٹرذاکرنائک کے ادارے پرلگائی گئی پابندی ملک کے روادارسماج اورسیکولردستورکی معکوس نمائندگی اورانصاف کے تقاضوں کے ساتھ کھلواڑہے،اس لیے جمعیت حکومت سے اس پابندی کوفوراًختم کرنے کامطالبہ کرتی ہے‘‘۔ ان خیالات کا اظہارصوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی کے امیرمولاناعبدالسلام سلفی نے صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔


                  مولانا نے کہا کہ ڈاکٹرذاکرنائک مشہوراسلامی مبلغ ہیں۔ ان کے خطابات ملک وبیرون ملک سنے جاتے ہیں، ہماری معلومات کے مطابق انہوں نے ہمیشہ امن وامان ہی کی بات کی ہے اوردہشت گردی کی ہرشکل کی وہ ہمیشہ مذمت کرتے رہے ہیں اورملک کی عوام نے عام طورپران کی زبان سے ہمدردی ،تعاون اورباہمی احترام ہی کی باتیں کی ہیں۔ ایک طرف سلجھے لہجہ میں بات کرنے والے شخص پرپابندی لگائی جارہی ہے تودوسری طرف کھلے عام مختلف فرقوں کے خلاف بیان دے کرمنافرت پھیلانے والوں کوملک میں چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ یہ صورت حال ملک کی اقلیات کے لیے فکرمندی اورتشویش کاباعث ہے۔ کیونکہ ایک شخص کے ساتھ ناانصافی کے بعدخدشہ ہے کہ دوسرے کوبھی نشانہ بنایاجائے اوریہ سلسلہ درازہوسکتا ہے جس کے آثارنظرآنے لگے ہیں۔


                  انہوں نے کہا کہ ملک میں اب تک ڈاکٹرذاکرنائک اوردیگرنمائندہ شخصیات کودینی امورمیں بولنے کے لیے ملی ہوئی آزادی کی وجہ سے یہ حضرات عالمی طورپرہندوستان میں اظہارِرائے کی آزادی اوررواداری کی علامت ہیں۔ ان پریا ان کے اداروں پرپابندی سے عالمی سطح پرملک کی سیکولرشبیہ دارہوگی۔ حکومتی ادارے اب تک ڈاکٹرذاکرنائک اوران کے ادارے کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کرسکے ہیں ،بغیرکسی پختہ ثبوت کے ڈاکٹرذاکرنائک کے ادارہ کے خلاف حکومت کی یہ کارروائی عدل وانصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔


                              مولانا نے کہا کہ ہم اس موقع پرڈاکٹرذاکرنائک کے دفاع میں مختلف مسالک کے نمائندوں اورعلماء کے کھڑے ہونے کی تحسین کرتے ہیں اورملک کی دیگرجماعتوں بالخصوص غیرمسلم سیکولرتنظیموں اورمیڈیا سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ ملک کی سیکولرامیج ،رواداری اوراظہارِرائے کی آزادی کے تحفظ کے لیے وہ آگے آئیں۔ (پریس ریلیز)۔


      First published: