உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    صومالیہ میں ممبئی جیسا حملہ! فائرنگ کرتے ہوئے ہوٹل حیات میں گھسے دہشت گرد، اب تک 12 کی موت

    Hotel Hyatt terrorist attack:  اس حادثے میں اب تک 12 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جبکہ 15 سے زائد افراد زخمی بتائے جارہے ہیں۔ بندوق برداروں نے حیات ہوٹل پر گولیاں برساتے ہوئے دو کاروں کو دھماکے سے اڑا دیا۔

    Hotel Hyatt terrorist attack: اس حادثے میں اب تک 12 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جبکہ 15 سے زائد افراد زخمی بتائے جارہے ہیں۔ بندوق برداروں نے حیات ہوٹل پر گولیاں برساتے ہوئے دو کاروں کو دھماکے سے اڑا دیا۔

    Hotel Hyatt terrorist attack: اس حادثے میں اب تک 12 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جبکہ 15 سے زائد افراد زخمی بتائے جارہے ہیں۔ بندوق برداروں نے حیات ہوٹل پر گولیاں برساتے ہوئے دو کاروں کو دھماکے سے اڑا دیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai, India
    • Share this:
      Hotel Hyatt terrorist attack: صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں ممبئی جیسا بڑا دہشت گردانہ حملہ Terrorist Attack ہوا ہے۔ موغادیشو کے ہوٹل حیات میں گھس کر دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کی ہے۔ اس حادثے میں اب تک 12 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جبکہ 15 سے زائد افراد زخمی بتائے جارہے ہیں۔ بندوق برداروں نے حیات ہوٹل پر گولیاں برساتے ہوئے دو کاروں کو دھماکے سے اڑا دیا۔ القاعدہ سے منسلک الشباب دہشت گرد تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

      موغادیشو کے ایک سکیورٹی اہلکار نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، 'دہشت گرد اب بھی ہوٹل حیات میں داخل ہو رہے ہیں اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ انکاؤنٹر جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حملے کی اطلاع ملتے ہی اسپیشل آپریشن ٹیم پہنچ گئی ہے۔ جہادی گروپ کے جنگجوؤں کے ساتھ انکاؤنٹر جاری ہے۔ حیات ہوٹل میں مسلح افراد کے داخل ہونے کے تقریباً ایک منٹ بعد دو کاروں میں بم پھٹ گئے۔

      شخص نےممبئی پولیس کو فون پردی26/11کی طرح حملےکی دھمکی، نمبر پاکستانی، الرٹ پرجانچ ایجنسیاں




       

      الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سکیورٹی افسر عبدالقادر حسن نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ دہشت گرد اب بھی عمارت کے اندر چھپے ہوئے ہیں۔ حسن نے بتایا کہ ہمارے پاس ابھی تک مکمل تفصیلات نہیں ہیں تاہم 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: