ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

پہلے ٹیوشن پھر مذاق اور پھر فحاشی کا شکار ، فیس بک اور یوٹیوب پر فحش ویڈیوز پوسٹ کرکے کمائے 2 کروڑ روپے

ملند بھرمبے نے کہا کہ وہ ان تمام ویڈیوز کے بارے میں یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے عہدیداروں سے بات کریں گے اور کوشش کریں گے کہ تمام ویڈیوز کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے ہٹادیا جائے۔

  • Share this:
پہلے ٹیوشن پھر مذاق اور پھر فحاشی کا شکار ، فیس بک اور یوٹیوب پر فحش ویڈیوز پوسٹ کرکے کمائے 2 کروڑ روپے
پہلے ٹیوشن پھر مذاق اور پھر فحاشی کا شکار ، فیس بک اور یوٹیوب پر فحش ویڈیوز پوسٹ کرکے کمائے 2 کروڑ روپے ۔ علامتی تصویر ۔

وسیم انصاری


ممبئی : پولیس نے تین نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے ، جو زیادہ رقم کمانے کے لئے فیس بک اور یوٹیوب پر فحش ویڈیوز پوسٹ کرتے تھے۔ کرائم برانچ (ممبئی کرائم برانچ) کے سربراہ ملند بھارمبے کے مطابق یہ نوجوان لوگوں کو غلط معلومات دے کر فحش ویڈیوز بناتے تھے۔ ان نوجوانوں نے بہت ساری لڑکیوں کی فحش ویڈیوز بنائے اور پھر اس کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کردیا اور لڑکیوں کو منہ نہ کھولنے کی دھمکی بھی دی ۔


کرائم برانچ کے مطابق یہ نوجوان لڑکیوں مذاق کے نام پر بلاتے تھے اور بعد میں ویڈیو میں فحش حرکتیں کرنے پر مجبور کرتے تھے ۔ اس کے علاوہ فحش الفاظ بھی استعمال کروایا جاتا تھا۔


فحش ویڈیوز سے دو کروڑ روپے کمائے گئے

کرائم برانچ کے مطابق فیس بک اور یوٹیوب پر لگ بھگ 17 چینلز نے ایسے ویڈیوز کے ذریعہ 2 کروڑ روپے کمائے ہیں ۔ یہ کارروائی کچھ متاثرہ خواتین کی شکایات کے بعد کرائم برانچ نے کی ہے۔

ملزم ٹیوشن کے ذریعہ لڑکیوں کو پھنساتا تھا

ملند بھانے نے بتایا کہ سال 2008 میں اس معاملہ کا کلیدی ملزم بھی کلاس 10 میں ٹاپ رہا ہے ۔ فی الحال وہ ٹیوشن پڑھاتا تھا اور وہاں سے نابالغ لڑکیوں کو مذاق میں شامل ہونے کے لئے راغب کرتا تھا اور بعد میں ان کی فحش ویڈیوز بھی بناتا تھا۔

کورونا دور میں فحش ویڈیوز میں اضافہ

کرائم برانچ کے مطابق کورونا دور میں ایسے ویڈیوز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔ اس طرح کے 300 سے زیادہ فحش ویڈیوز تقریبا 17 یوٹیوب چینلز پر بنائے جا چکے ہیں ۔ تینوں ملزموں کو پوسکو ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کیس کا کلیدی ملزم مکیش گپتا ہے ، جس کی عمر 29 سال ہے۔

یوٹیوب سے بھی بات کرے گی پولیس

ملند بھرمبے نے کہا کہ وہ ان تمام ویڈیوز کے بارے میں یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے عہدیداروں سے بات کریں گے اور کوشش کریں گے کہ تمام ویڈیوز کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے ہٹادیا جائے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Feb 27, 2021 10:15 PM IST