உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پولیس نے ذاکر نائیک کے اسلامک ریسرچ فاونڈیشن کے خلاف ایف سی آر اے کیس کو کیا بند

    ممبئی پولیس نے معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ادارے اسلامک ریسرچ فاونڈیشن کے خلاف دھوکہ بازی کے معاملہ پر جانچ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ممبئی پولیس نے معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ادارے اسلامک ریسرچ فاونڈیشن کے خلاف دھوکہ بازی کے معاملہ پر جانچ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ممبئی پولیس نے معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ادارے اسلامک ریسرچ فاونڈیشن کے خلاف دھوکہ بازی کے معاملہ پر جانچ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    • Agencies
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی۔ ممبئی پولیس نے معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ادارے اسلامک ریسرچ فاونڈیشن کے خلاف دھوکہ بازی کے معاملہ پر جانچ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ مالی بے ضابطگیوں کی جانچ کے لئے پولیس میں شکایت کرنی پڑتی ہے اور ہمارے پاس ایسی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے جس کی بنیاد پر ہم نے جانچ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

      انڈین ایکسپریس کے مطابق، پولیس نے کہا کہ جہاں تک ساٹھ کروڑ روپئے کے عطیہ کی بات ہے، اس کے بارے میں پتہ نہیں چل پا رہا ہے کہ یہ کہاں سے آیا اور کسی نے اس سلسلہ میں کوئی شکایت بھی نہیں کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس میں دھوکہ بازی کا کوئی معاملہ نہیں ہوا ہے۔ پولیس نے کہا کہ شکایت کے بغیر کوئی کیس نہیں بنتا ہے۔

      پولیس نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک سے 50-60 کروڑ کا فنڈ ٹرانسفر ہوا ہے جو ایک مقامی بینک اکاؤنٹ کے ذریعہ تھا۔ اس اکاؤنٹ کے بارے میں پتہ لگا ہے کہ یہ ذاکر نائک کے رشتہ دار کا ہے۔ جب اور پتہ لگایا گیا تو پتہ چلا کہ اس اکاؤنٹ سے مسلسل فنڈ نائیک کی اہلیہ اور بچوں کے علاوہ ان کے قریبی رشتہ داروں کو ٹرانسفر ہوتے رہے ہیں۔

      خیال رہے کہ جولائی میں بنگلہ دیش کی راجدھانی ڈھاکہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملہ کے بعد سے ہی ذاکر نائیک تنازعات کی زد میں ہیں۔
      First published: