اپنا ضلع منتخب کریں۔

    یکساں سول کوڈ کے تعلق سےگجرات ہائی کورٹ کی سفارش کی علمائے کرام اور دانشوروں نے سخت مخالفت کی

    ممبئی۔  گجرات ہائی کورٹ کی جانب سے ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کئے جانے کی سفارش کی یہاں ممبئی کے علمائے کرام اور دانشوروں نے سخت لفظوں میں مخالفت کی ہے اور کہا کہ ایک جانب یہ جہاں گجرات ہائی کورٹ کا فیصلہ شریعت میں مداخلت ہے وہیں دوسری جانب یہ دستور میں مختلف قوموں کے افراد کو دی گئی اس آزادی کے خلاف ہے جس کی رو سے ہر کسی کو اپنے مذہب پر قائم رہنے کا اختیار ہے ۔

    ممبئی۔ گجرات ہائی کورٹ کی جانب سے ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کئے جانے کی سفارش کی یہاں ممبئی کے علمائے کرام اور دانشوروں نے سخت لفظوں میں مخالفت کی ہے اور کہا کہ ایک جانب یہ جہاں گجرات ہائی کورٹ کا فیصلہ شریعت میں مداخلت ہے وہیں دوسری جانب یہ دستور میں مختلف قوموں کے افراد کو دی گئی اس آزادی کے خلاف ہے جس کی رو سے ہر کسی کو اپنے مذہب پر قائم رہنے کا اختیار ہے ۔

    ممبئی۔ گجرات ہائی کورٹ کی جانب سے ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کئے جانے کی سفارش کی یہاں ممبئی کے علمائے کرام اور دانشوروں نے سخت لفظوں میں مخالفت کی ہے اور کہا کہ ایک جانب یہ جہاں گجرات ہائی کورٹ کا فیصلہ شریعت میں مداخلت ہے وہیں دوسری جانب یہ دستور میں مختلف قوموں کے افراد کو دی گئی اس آزادی کے خلاف ہے جس کی رو سے ہر کسی کو اپنے مذہب پر قائم رہنے کا اختیار ہے ۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      ممبئی۔  گجرات ہائی کورٹ کی جانب سے ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کئے جانے کی سفارش کی یہاں ممبئی کے علمائے کرام اور دانشوروں نے سخت لفظوں میں مخالفت کی ہے اور کہا کہ ایک جانب یہ جہاں گجرات ہائی کورٹ کا فیصلہ شریعت میں مداخلت ہے وہیں دوسری جانب یہ دستور میں مختلف قوموں کے افراد کو دی گئی اس آزادی کے خلاف ہے جس کی رو سے ہر کسی کو اپنے مذہب پر قائم رہنے کا اختیار ہے ۔


      واضح رہے کہ گزشتہ روزگجرات ہائی کورٹ نے دوسری شادی کے معاملے میں ایک مسلم تاجرکی عرضداشت کے دوران یہ فیصلہ بھی صادر کیا کہ مسلمان قرآن کی غلط تشہیر نہ کر ے اور قرآن میں کہیں بھی چار شادی کی اجازت نہیں دی گئی ہے نیز ملک میں چار شادی پر روک لگانے کیلئے یکساں سول کوڈ ضروری ہے ۔


      آل انڈیا علماکونسل کے جنرل سکریٹری مولانا محمود دریابادی نے گجرات ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گجرات ہائی کورٹ کا فیصلہ جہاں تک قرآن کی غلط طریقے سے مسلمانوں کی جانب سے تشہیر کیئے جانے کے تعلق سے ہے تو وہ اس سے اتفاق کرتے ہیں اور ہمارے مذہب میں چار شادی کی اجازت مشروط طریقے سے دی گئی ہے اور ایک آدمی کو دوسری شادی کرنے سے قبل اس کے پاس کوئی جواز موجود ہونا چاہیئے اور اسے پہلی بیوی سے اجازت حاصل کرنی چاہیئے۔


      مولانا محمود دریابادی نے کہا کہ ملک کے دستور کے مطابق ہر باشندے کو مذہبی آزادی حاصل ہے اور ہر فرقہ کے افراد کو اس کے مذہب کے مطابق قانون پر عمل پیرا ہونے کی اجازت ہے نیز ایسے موقع پر عدالت کی جانب سے یکساں سول کوڈ کی سفارش کرنا عدالت کا اپنے حدودودسے تجاوز کرنا سمجھا جائے گا ۔


      مومنٹ فور پیس اینڈ جسٹس کے ڈاکٹر عظیم الدین نے کہا کہ معزز جج صاحب کی جانب سے یکساں سول کوڈ کی سفارش کرنا یقیناًشریعت میں مداخلت ہے نیز قانون تشکیل دینا مسئلہ کا حل نہیں ہے کیونکہ حکومت نے عصمت دری کے بڑھتے واقعات کے بعد سخت قانون مرتب کیا ہے لیکن اس کے باوجود بھی عصمت دری کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔

      ڈاکٹر عظیم الدین نے کہا کہ قرآن میں مسلمانوں کو کہیں بھی چار شادی کا حکم نہیں دیا گیا ہے البتہ یہ اجازت دی ہے کہ وہ حالات کے تحت چار شادی کر سکتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کو چار شادی کرنا ہی ضروری ہے ۔

      First published: