ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

گذشتہ دس برسوں سے یوپی کی جیل میں بند مسلم شخص ناکافی ثبوت کی بنا پرعدالت سے باعزت بری

ممبئی۔ ممنو عہ اسلامی تنظیم حرکت الجہاد سے مبینہ طورپر تعلق رکھنے والے گذشتہ دس برسوں سے اتر پردیش کی جیل میں مقید ایک مسلم شخص کو آج یہاں لکھنو کی جیل میں قائم خصوصی عدالت نے ناکافی ثبوت کی بنا پر باعزت بری کیئے جانے کا حکم جاری کیا ۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 04, 2016 06:01 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
گذشتہ دس برسوں سے یوپی کی جیل میں بند مسلم شخص ناکافی ثبوت کی بنا پرعدالت سے باعزت بری
ممبئی۔ ممنو عہ اسلامی تنظیم حرکت الجہاد سے مبینہ طورپر تعلق رکھنے والے گذشتہ دس برسوں سے اتر پردیش کی جیل میں مقید ایک مسلم شخص کو آج یہاں لکھنو کی جیل میں قائم خصوصی عدالت نے ناکافی ثبوت کی بنا پر باعزت بری کیئے جانے کا حکم جاری کیا ۔

ممبئی۔ ممنو عہ اسلامی تنظیم حرکت الجہاد سے مبینہ طورپر تعلق رکھنے والے گذشتہ دس برسوں سے اتر پردیش کی جیل میں مقید ایک مسلم شخص کو آج یہاں لکھنو کی جیل میں قائم خصوصی عدالت نے ناکافی ثبوت کی بنا پر باعزت بری کیئے جانے کا حکم جاری کیا ۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم کے عہدے داران نے دی اور کہا کہ خصوصی عدالت کے جج سید آفتاب حسین رضوی نے ملزم اقبال عرف جلال الدین کے خلاف استغاثہ کی جانب سے پیش کیئے گئے تمام ثبوتوں کو مسترد کردیا ۔


اخبار نویسوں کو لکھنو عدالت کے فیصلہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے جمعیۃ کی قانونی امداد کمیٹی کے سیکریٹری گلزارا عظمی نے کہا کہ ملزم اقبال کو 23؍ جون 2007، ء کو اتر پردیش کے انسداد دہشت گردی دستہ نے لکھنؤ سے گرفتار کیا تھا او ر ان کے قبضہ سے ایک اے کے ۴۷؍ رائفل ، ۶۰؍ زندہ کارتوس ،۱۰؍ ڈیٹونیٹر، اور دیگر دھماکہ خیز و مہلک ہتھیار ضبط کرنے کا دعوی کیا تھا ۔ گلزار اعظمی نے مزید کہا کہ لکھنو ایس ٹی ایف کے مطابق ملزم اتر پردیش کے اہم مقامات کو نشانہ بنانا چاہتا تھا اور ملک کے دیگر علاقے بھی اس کے نشانے پر تھے ۔ گرفتاری کے بعد ملزم کو ایک دوسرے مقدمہ کے سلسلہ میں دہلی میں مشہور تہاڑ جیل میں مقید کیا گیاتھا پھر اس کے بعد اسے لکھنو سے قریب قائم واقع جیل میں منتقل کیا گیا جہاں پر حفاظتی انتظامات کے پیش نظر اس کے خلاف جیل میں قائم کی گئی خصوصی عدالت میں مقدمہ کی سماعت عمل میں آئی۔


قید وبند میں مبتلا ملزم نے لکھنو جیل سے جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا ارشد مدنی کو خط لکھ کر خود کے بے گناہ ہونے کا دعوی کیا تھااور قانونی امداد طلب کی تھی جس کے بعد جمعیۃ نے ابتدائی تحقیقات میں اسے بے قصور پایا تھا اور اسے قانونی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے مقدمہ کے لیئے ایڈوکیٹ عارف علی کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ ایڈوکیٹ عارف علی نے دوران بحث عدالت کو بتایا تھا کہ ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد اسے غیر قانونی تحویل میں رکھا گیا تھا اور اس دوران ا س کے ساتھ تحقیقاتی دستوں نے مارپیٹ بھی کی تھی اور جبراً اس سے سادے کاغذات پر دستخط حاصل کی گئی تھی ۔ ایڈوکیٹ عارف علی نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ تحقیقاتی دستوں نے ملزم کے جسم میں ایک مقناطیسی آلہ بھی نصب کیا تھا جس کی وجہ سے ملزم کو سخت اذیت ہوتی ہے ۔ گلزار اعظمی نے مزید بتایا کہ ملزم کو گذشتہ دو سال سے جمعیۃ علماء قانونی امداد فراہم کررہی ہے اور ملزم کے مقدمہ کی پیروی کے لیئے دہلی سے ایڈوکیٹ عارف علی مقدمہ کی سماعت پر لکھنو جاتے ہیں نیز اس سے قبل لکھنؤ کے ایڈوکیٹ شعب ملزم کے مقدمہ پیروی کررہے تھے۔

First published: Feb 04, 2016 06:01 PM IST