ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

ممبئی 2002 بم دھماکہ کیس : ریاستی حکومت کو بڑا جھٹکا ، سزا میں اضافہ کی اپیل ہائی کورٹ نے کی مسترد

ممبئی ہائی کورٹ نے آج یہاں 2002/3 ممبئی سلسلہ وار بم دھماکہ معاملے میں ریاستی حکومت کو اس وقت شدید دھچکہ لگا جب اس کی اس مقدمہ میں مجرم گردانے گئے تین مسلم نوجوانوں کو مزید سخت سزائیں دیئے جانے والی عرضداشت کو مستر دکردیا

  • UNI
  • Last Updated: Aug 29, 2016 08:20 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ممبئی 2002 بم دھماکہ کیس : ریاستی حکومت کو بڑا جھٹکا ، سزا میں اضافہ کی اپیل ہائی کورٹ نے کی مسترد
بمبئی ہائی کورٹ: فائل فوٹو

ممبئی : ممبئی ہائی کورٹ نے آج یہاں 2002/3 ممبئی سلسلہ وار بم دھماکہ معاملے میں ریاستی حکومت کو اس وقت شدید دھچکہ لگا جب اس کی اس مقدمہ میں مجرم گردانے گئے تین مسلم نوجوانوں کو مزید سخت سزائیں دیئے جانے والی عرضداشت کو مستر دکردیا وہیں باعزت بری ہونے والے دو ملزمین ندیم پابولا اور ہارون لوہار کے خلاف دائر اپیل کو بھی مسترد کردیا ۔

ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر یوگ موہیت چودھری نے ممبئی ہائی کورٹ کی دورکنی بینچ کے جسٹس اے ایس اوک اور جسٹس اے اے سید پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو ریاستی حکومت کی جانب سے داخل کردہ عرضداشت کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا کہ ریاستی حکومت نے باعزت بری اور 2؍ سال سے لیکر عمر قید کی سزا پانے والے ملزمین کی سزاؤں میں اضافہ کی عرضداشت داخل کی ہے لیکن سرکاری وکیل کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ باعزت رہا ملزمین اور سزا پانے والے بیشتر ملزمین نے ان کو تجویز کی گئی سزاؤں سے دوگنا سے زائد ایا م جیل کی سلاخوں کے پیچھے گذار چکے ہیں نیز قانون کے مطابق ریاستی سرکار کو حق ہی نہیں ہےکہ سزاؤں سے زیادہ ایام جیل میں گذارچکے ملزمین کے خلاف سزائیں بڑھانے کی اپیل داخل کرے۔اس تعلق سے یوگ چودھری نے عدالت میں سپریم کورٹ آف انڈیا کے متعدد حکم ناموں کی نقول بھی پیش کی ۔

ممبئی ہائی کورٹ کی دورکنی بینچ نے فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد ایک جانب جہاں 2 سال کی سزا پائے مجرمین محمد کامل محمد جمیل، نور محمد عبدالمالک انصاری، انور الی جاوید علی خان کے خلاف دائر اپیل کو مسترد کردیا وہیں ۱۰؍ سال اور عمر قید کی سزا پانے والے مجرمین کی سزاؤں میں مزید اضافہ کی عرضداشت کو سماعت کے لیئے قبول کرلیا ہے ۔

اس معاملے میں جمعیۃ علما ء کی جانب سے یوگ چودھری نے محمد کامل ،نور محمد اور ہارون لوہا ر کے لیئے بحث کی جنہیں جمعیۃ نے قانونی امداد فراہم کی۔ عیاں رہے کہ خصوصی پوٹا عدالت کے جج پی آر دیشمکھ نے کل چار مجرمین کوسزائے عمر قید ، تین مجرمین ثاقب ناچن ،عاطف ملا اور عاکف ملا کو دس سال کی سزائیں تجویز کی تھی اور دیگر مجرمین محمد کامل ،نور محمد اور ڈاکٹر انورعلی کو دو سال قید بامشقت کی سزائیں تجویز کی ہے ۔

واضح رہے کہ2002/3 کے درمیان ممبئی کے تین الگ الگ مقامات پر ہوئے بم دھماکوں کے الزام میں تحقیقاتی دستوں نے 16 مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا اور تینوں معاملے کی مشترکہ تفتیش کے بعد ملزمین کے خلاف چارج شیٹ بھی داخل کی تھی ۔ تحقیقاتی دستوں کے مطابق پہلا بم دھماکہ 6؍ دسمبر 2002 کو ممبئی سینٹرل کے قریب ہوا تھا جس میں درجنوں افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ دوسرا بم دھماکہ 27؍ جنوری 2003 کو ولے پارلے میں ہوا تھا جس میں ایک شخص کی موت واقع ہوگئی تھی نیز تیسرا بم دھماکہ دوسرے دھماکہ کے ۴۲؍ دنوں کے بعد ملنڈ میں ہوا تھا جس میں 12؍ افراد ہلاک اور 17؍ دیگر افراد زخمی ہوئے تھے ۔

First published: Aug 29, 2016 08:20 PM IST