உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جودھپور جیل میں مسلم نوجوانوں کی حالت ناگفتہ بہ ، عمار کے خلاف اب تک چارج شیٹ نہیں کی گئی داخل

     عمار عمرہ پر جاتے ہیں اور لوٹتے ہی جھارکھنڈ میں شیرگھاٹي سے راجستھان اے ٹی ایس اسے گرفتار کر کے لے جاتی ہے

    عمار عمرہ پر جاتے ہیں اور لوٹتے ہی جھارکھنڈ میں شیرگھاٹي سے راجستھان اے ٹی ایس اسے گرفتار کر کے لے جاتی ہے

    عمار عمرہ پر جاتے ہیں اور لوٹتے ہی جھارکھنڈ میں شیرگھاٹي سے راجستھان اے ٹی ایس اسے گرفتار کر کے لے جاتی ہے

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      جودھپور : عمار یاسر کو 2014 میں دہلی میں ابو الفضل سے انڈین مجاہدین سے وابستہ ہونے کے الزام میں دہلی اسپیشل سیل نے گرفتار کیا تھا ، لیکن 24 گھنٹے میں پولیس کو یہ کہہ کر کلین چٹ دینی پڑگئی کی عمار یاسر کے خلاف کچھ نہیں ملا۔ اس کے بعد عمار عمرہ پر جاتے ہیں اور لوٹتے ہی جھارکھنڈ میں شیرگھاٹي سے راجستھان اے ٹی ایس اسے گرفتار کر کے لے جاتی ہے، ان کے والد جہاں ریلوے سے ریٹائرڈ ہیں ،عمار ہی ان کی روزی روٹی کا سہارا تھا ، جو اپنے خواب کے لئے بی ٹیک کرنے جے پور گیا تھا ، لیکن اس کے ارمان جودھپور کی جیل کی تہہ خانہ میں سڑ رہے ہیں۔ والد اور ان کی ماں کی آنکھیں رو رو کے پتھرا گئی ہیں۔ گزشتہ رمضان میں جب عمار کی ماں نے پی سي پی ٹی کے کو كنوينر عمیق جامعی کو فون کیا ، تو زارو قطار رونے لگی اور کہا کہ عمار آپ سے ملنا چاہتا ہے۔ یہ سن کر مجھے دو سال پہلے کا وہ دن یاد آگیا ، جب تحریک کے بعد جب مجھے اسپیشل سیل سے اسے لانے کے لئے دہلی پولیس کے ایڈیشنل کمشنر نے ڈپيوٹ کیا گیا تھا ۔ وہ ملتے ہی کہہ رہا تھا کہ خاص طبقہ سے آنے اور مین اسٹريم میں حصہ لینے کی وجہ سے ہمیں نشانہ بنایا گیا ۔ مجھے ملک کے آئین پر یقین تھا کہ میں چھوٹ جاؤں گا۔
      جولائی کی20 کو جب جودھپور میں میرے آنے کی خبر پھیلی ، تو ماحول بالکل الگ تھا، مقامی نوجوان رمضان جیل میں ملنے سے پہلے حلف نامہ بنوانے کے لئے کچہری میں میرے ساتھ آیا اور سب کی آنکھیں مرکوز تھیں ۔ ٹھیک وہی منظر جیسا دہلی کے پٹیالہ کورٹ میں جی این یو طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار اور میرے ساتھ تھی۔ رمضان نے بتایا کہ یہاں صرف نوٹری والا ہے ، جو ہم سے ہمدردی رکھتے ہیں ، اس لئے نوٹری بن جاتی ہے۔ جب تک سزا کا اعلان نہیں ہو، جرم ثابت نہیں ہو، چارج فریم نہیں ہو وكيلو ں کے ایسے برتاو ہمیں کس سماج کی طرف لے جاتے ہیں ، آپ خود ہی سمجھ سکتے ہیں ہے!
      پی سی پی ٹی کے کو كنوينر عمیق جامعی سے ثاقب انصاری، عدیل انصاری، برکت، جنید، عبد الظہیر، اقبال، وقار، معروف اور عمار یاسر کے کنبہ کے لوگ ملنے آئے اور گھنٹوں بات چیت ہوئی ۔ اقبال کی اہلیہ نے بتایا کہ ان کے تین بچے ہیں ۔ بڑا بیٹا وکیل بننا چاہتا ہے، اقبال ٹھیلا لگاتے ہیں ، عمار کے جیل جانے کے بعد اب ان کا کوئی سہارا نہیں ہے۔ پڑوسیوں اور محلے والے بھی ان کے ساتھ مناسب طریقے سے برتاؤ نہیں کرتےہیں، لوکل خباروں کی رپورٹ کی بنیاد پر وہ اقبال کو غلط ٹھہراتے ہیں ۔ ایک طرح سے سماج میں بائی کاٹ کی زندگی جی رہی ان کی اہلیہ کہتی ہیں انہیں صرف اللہ پر بھروسہ ہے اور ان کے شوہر بے قصور ہیں اور چھوٹ کر آئیں گے۔ اقبال یا ان جیسوں پر الزام اس بات کا ہے کہ انہوں جودھپور کے نزدیک منڈور میں ایک میٹنگ کی ، جس میں اسلام اور تبلیغ کی باتیں کی گئیں ۔ کچھ نوجوانوں کے ساتھ چیٹنگ کی تفصیلات موجود ہیں ، جس میں عام بات چیت کو راجستھان اے ٹی ایس نے كوڈورڈ میں بم بارود ڈیٹونیٹر کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ مندرجہ بالا کنبہ میں عمار یاسر کو چھوڑ کر باقی کوئی رنگ روغن تو کوئی پتھر توڑنے کا کام کرتے تھے۔ ان کے پاس وكيلوں کے لئے فیس نہیں ہے اور نہ ہی کسی سینئر وکیل کر نے کی ان کی حیثیت ہے۔
      عمار یاسر نے 20 منٹ کی جیل میں ملاقات میں عمیق جامعی سے کہا اس کیس میں پولیس نے ایک دن میں جودھپور اور جے پور میں میٹنگ کرنے کی ایف آئی آر درج کی ، لیکن آج تک راجستھان پولیس نے چارج فریم نہیں کیا اور نہ ہی کوئی سینئر وکیل اس معاملہ کی پیروی کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیکھا جائے تو ایک ایف آئی آر اپنے آپ منسوخ ہو جانی چاہئے۔
      پی سي پی ٹی کے کوكنوينر عمیق جامعی جیلوں کی میں معصوم نوجوانوں سے ملاقات کر رہے ہیں ۔ اس سلسلہ میں جودھپور جیل کا دورہ کیا ۔ ان کی کوشش ہے کہ سماجی اور سیاسی طاقتوں کے ساتھ راجستھان میں پی سی پی ٹی دباؤ بنانے کا کام کرے گی اور اگست میں ایک قومی سطح کی کانفرنس جے پور میں کیا جائے گا اور جہاں ضرورت پڑے گی ، وہاں نوجوانوں کے لئے وکیل مہیا کرائے گی ۔
      عمیق جامعی نے واضح طور پر کہا کہ مرکز اور ریاست کی حکومتیں دلت سے پاک ہندوستان کے بعد مسلم مکت ہندوستان چاہتی ہیں ،جس خواب کو پورا نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں مطالبہ کیا کہ ریاستی حکومت کی پولیس اس معاملے میں چارج فریم کر کے ٹرال شروع کرے اور کسی بھی معصوم زندگی کو ایسے ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔
      First published: