உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کانگریس پر مسلمانوں کو نظرانداز کرنے الزام ، ایم ایل سی کی سیٹ کا مطالبہ

    ناندیڑ میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب تقریباً 35 فیصد ہے ، لیکن اس کے باوجود بھی یہاں سے اسمبلی میں نمائندگی کے لیے کوئی اقلیتی نمائندہ منتخب نہیں ہوپاتا ہے۔

    ناندیڑ میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب تقریباً 35 فیصد ہے ، لیکن اس کے باوجود بھی یہاں سے اسمبلی میں نمائندگی کے لیے کوئی اقلیتی نمائندہ منتخب نہیں ہوپاتا ہے۔

    ناندیڑ میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب تقریباً 35 فیصد ہے ، لیکن اس کے باوجود بھی یہاں سے اسمبلی میں نمائندگی کے لیے کوئی اقلیتی نمائندہ منتخب نہیں ہوپاتا ہے۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:
      ناندیڑ : ناندیڑ میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب تقریباً 35 فیصد ہے ، لیکن اس کے باوجود بھی یہاں سے اسمبلی میں نمائندگی کے لیے کوئی اقلیتی نمائندہ منتخب نہیں ہوپاتا ہے۔ ایسے میں شہر کے مسلمانوں نے کانگریس پارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ ستمبر میں ہونے والے ایم ایل سی انتخابات میں مسلم سماج کے کسی نمائندہ کوموقع دیا جائے ۔ ناندیڑ میں منعقدہ ایک میٹنگ کے دوران مختلف ملی و سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے کانگریس کے ریاستی صد ر اشوک چوہان سے ملاقات کی اور انہیں ایک میمورنڈم سونپا ۔
      قابل ذکر ہے کہ ناندیڑ کے دونوں اسمبلی حلقوںمیں 4 دہائی سے زیادہ عرصے سے مسلم امیدوارمنتخب نہیں ہوا ہے اور اس کی وجہ مسلم امیدوار کو کسی بھی بڑی پارٹی ٹکٹ نہیں دیتی ہے ۔ مسلم لیگ سے نوراللہ خان اورکانگریس سے فاروق پاشا کے علاوہ کوئی مسلم امیدوار ناندیڑ سے آزادی کے بعد سے اب تک رکن اسمبلی یارکن قانون ساز کونسل نہیں بن پایا ہے ۔
      چونکہ آبادی اور حلقہ اسمبلی کی حد بندی کی وجہ سے مسلم امیدواروں کے کامیابی کے امکانات کم ہیں، اس لئے کانگریس کافی وقت سے مسلم امیدواروں کوایم ایل اے کی بجائے ایم ایل سی بنانے کا وعدہ کرتی آرہی ہے ۔اسی وعدہ کو پورا کرنے کا دلیل دیتے ہوئے مسلم تنظیموں کے نمائندے کانگریس سے اس مرتبہ ایم ایل سی کا ٹکٹ مسلم سماج کے کسی شخص کو دینے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔
      خیال رہے کہ مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ اشوک چوہان نے 2009 کے اسمبلی انتخابات کے دوران بھی کانگریس کے وعدے کو دہرایا تھا اور مسلم لیڈر کو ایم ایل اے کی بجائے ایم ایل سی بنانے کا اعلان کرکے مسلمانوں کے ووٹ حاصل کئے تھے ، لیکن مسلم امیدوار کی بجائے انھوں نے اپنے قریبی امر راجورکر کو ایم ایل سی بنادیا ۔ اس سے مسلمانوں میں ناراضگی پیدا ہوئی ، تو انھوں نے پھر اپنے وعدے کو دہرایا اور مسلمانوں کو مطمئن کیا ۔ لیکن 2014 کے اسمبلی انتخابات میں بھی انھوں نے پھر مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہ دے کر ایم ایل سی کا وعدہ کیا، لیکن مسلمانوں کی ناراضگی ختم نہیں ہوئی اور مسلم رائے دہندوں نے کانگریس کے امیدوار اوم پرکاش پوکرنا کے خلاف رائے دہی کی ، جس سے کانگریس کو اپنی سیٹ گنوانی پڑی ۔
      اب چونکہ ستمبر میں ایم ایل سی امر راجورکر کی معیاد کار ختم ہونے جارہی ہے ، تو مسلم دانشور اور لیڈروں میں یہ سوال پھر گشت کرنے لگا ہے کہ کیا اس مرتبہ کانگریس اپنے وعدے کو نبھائے گی یا پھر سے وعدہ خلافی کرتی ہے ۔
      First published: