உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دابھولكر قتل کیس میں سنسنی خیز انکشاف ، ہندو راشٹر کے لئے الگ فوج بنانے کی تھی تیاری

    ممبئی : مہاراشٹر کے سنسنی خیز دابھولكر قتل کیس میں حیران کن انکشافات ہو رہے ہیں۔ اس معاملے میں سناتن سنستھا کے گرفتار کارکن نے دعوی کیا ہے کہ ہندو راشٹر کے خواب کو پورا کرنے کے لئے ایک الگ فوج بنانے کی تیاری تھی۔ اس کے علاوہ ملزم کے تار دو دیگر قتل کیس سے جڑ رہے ہیں۔

    ممبئی : مہاراشٹر کے سنسنی خیز دابھولكر قتل کیس میں حیران کن انکشافات ہو رہے ہیں۔ اس معاملے میں سناتن سنستھا کے گرفتار کارکن نے دعوی کیا ہے کہ ہندو راشٹر کے خواب کو پورا کرنے کے لئے ایک الگ فوج بنانے کی تیاری تھی۔ اس کے علاوہ ملزم کے تار دو دیگر قتل کیس سے جڑ رہے ہیں۔

    ممبئی : مہاراشٹر کے سنسنی خیز دابھولكر قتل کیس میں حیران کن انکشافات ہو رہے ہیں۔ اس معاملے میں سناتن سنستھا کے گرفتار کارکن نے دعوی کیا ہے کہ ہندو راشٹر کے خواب کو پورا کرنے کے لئے ایک الگ فوج بنانے کی تیاری تھی۔ اس کے علاوہ ملزم کے تار دو دیگر قتل کیس سے جڑ رہے ہیں۔

    • IBN7
    • Last Updated :
    • Share this:
      ممبئی : مہاراشٹر کے سنسنی خیز دابھولكر قتل کیس میں حیران کن انکشافات ہو رہے ہیں۔ اس معاملے میں سناتن سنستھا کے گرفتار کارکن نے دعوی کیا ہے کہ ہندو راشٹر کے خواب کو پورا کرنے کے لئے ایک الگ فوج بنانے کی تیاری تھی۔ اس کے علاوہ ملزم کے تار دو دیگر قتل کیس سے جڑ رہے ہیں۔
      دابھولكر قتل میں گرفتار سناتن سنستھا کے کارکن وریندر تاوڑے نے پوچھ گچھ میں جو انکشافات کئے ہیں ، اس نے حکام کے بھی ہوش اڑا دیئے۔ ذرائع کے مطابق تاوڑے اور اس کے ساتھیوں نے ہندو مذہب کی مخالفت کرنے والوں کو سبق سکھانے کے لئے بڑی سازش رچی تھی ، جس کے تحت ہندوستان میں متوازی فوج بنانے کی تیاری تھی۔
      متوازی فوج میں 15 ہزار ہندوؤں کو بحال کرنا تھا۔ اس کے لئے باقاعدہ ہتھیار فیکٹری بنانے کی بھی بات کی جارہی تھی۔ فنڈ کم پڑنے پر لوٹ مار کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا ۔ تاوڑے کے مطابق اس کا دشمن ہر وہ شخص تھا ، جو ہندو راشٹر کا تصور اور ہندو مذہب کی روایات کی مخالفت کرے۔ آئی بی این 7 کی جانچ ٹیم جب پنویل میں واقع سناتن سنستھا کے آشرم پہنچی ، تو اسے گیٹ پر ہی روک لیا گیا۔ غور طلب ہے کہ نریندر دابھولكر دہائیوں سے توہم پرستی اور ہندو مذہب کی کچھ روایات کی مخالفت کرتے آ رہے تھے۔ انہوں نے کئی مرتبہ سناتن سنستھا کی بھی مخالفت کی تھی۔ سی بی آئی کے مطابق 2008 سے ہی تاوڑے نے دابھولكر کے قتل کی سازش شروع کر دی تھی اور پانچ سال بعد 2013 ء میں انہیں گولیوں سے بھون دیا گیا۔ سی بی آئیکے مطابق جو ثبوت ان کے ہاتھ لگے ہیں ، اس سے گووند پنسارے اور ایم ایم كلبرگي کے قتل میں بھی تاوڑے کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔
      First published: