ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

عیدمیلادالنبی کے موقع پر شراب بندی سے انکارکرنے پرمسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں:نسیم خان

ممبئی ۔ عیدمیلادالنبی کے موقع پر بی جے پی حکومت کی جانب سے شراب بندی کے مطالبہ کو مسترد کئے جانے پر مہاراشٹر کے سابق اقلیتی امور وزیرو سینئر کانگریس رکن اسمبلی محمد عارف نسیم خان نے سخت لفظوں میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ریاستی حکومت کے فیصلے سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں ۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 23, 2015 09:05 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
عیدمیلادالنبی کے موقع پر شراب بندی سے انکارکرنے پرمسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں:نسیم خان
ممبئی ۔ عیدمیلادالنبی کے موقع پر بی جے پی حکومت کی جانب سے شراب بندی کے مطالبہ کو مسترد کئے جانے پر مہاراشٹر کے سابق اقلیتی امور وزیرو سینئر کانگریس رکن اسمبلی محمد عارف نسیم خان نے سخت لفظوں میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ریاستی حکومت کے فیصلے سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں ۔

ممبئی ۔ عیدمیلادالنبی کے موقع پر بی جے پی حکومت کی جانب سے شراب بندی کے مطالبہ کو مسترد کئے جانے پر مہاراشٹر کے سابق اقلیتی امور وزیرو سینئر کانگریس رکن اسمبلی محمد عارف نسیم خان نے سخت لفظوں میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ریاستی حکومت کے فیصلے سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں ۔ عیسائیوں کے تہوار کرسمس کا حوالہ دے کر ریاستی حکومت کے اس فیصلے کی نسیم خان نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت مسلم مسائل کو حل کرنا ہی نہیں چاہتی اور وہ مسلمانوں کے مسائل کو فرقہ پرستی کی عینک لگا کر دیکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ سابقہ حکومت کی جانب سے مسلمانوں کو دیئے گئے پانچ فیصد ریزرویشن کو بھی ممبئی ہائی کورٹ کی جانب سے ہری جھنڈی دکھلانے کے باوجود بھی نافذ نہیں کیا گیا ۔


نسیم خان نے مزید کہا کہ اسی طرح سے ریاست میں بیف پر عائد پابندی اور دیگر ایسے ان گنت ریاستی حکومت کے فیصلے ہیں جو مسلم مخالف ہیں نیز آر ایس ایس کے اشاروں پر چلنے والی حکومت سے آپ اور کیا توقع رکھ سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد عہدہ ورازداری کا جو حلف دلایا جاتا ہے اس کے مطابق تمام فرقوں کو ساتھ لیکر چلنے کا وعدہ کیا جاتا ہے لیکن یہ ریاستی حکومت اپنے اس وعدے کو بھی بھول گئی ہے اور ہر فیصلہ فرقہ پرستی کی بنیاد پر ہی کرتی ہے ۔


واضح رہے کہ گزشتہ دنوں نسیم خان کے ہمراہ اپوزیشن لیڈررادھاکرشنن وکھے پاٹل،مہاراشٹرسماجوادی پارٹی کے سربراہ ابوعاصم اعظمی،اوردیگرمسلم اراکین اسمبلی جس میں امین پٹیل،عبدالستارشیخ،اسلم شیخ،شیخ آصف شامل تھے انہوں نے مہاراشٹر کے وزیر اعلی سے مطالبہ کیا تھا کہ24دسمبر یعنی کہ عیدمیلادالنبی والے دن گاندھی جینتی اور مہاویر جینتی کی طرز پر ریاست میں شراب بندی کے احکامات جاری کیئے جائیں لیکن بی جے پی قیادت والی حکومت نے اسے مسترد کر دیا اور وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کئے گئے ایک حکم کے مطابق 24؍25؍اور31؍دسمبرکو شراب کی دکانیں اورمیخانوں کے اوقات میں چھوٹ دے دی ہے اوراب یہ ان تین دنوں میں بجائے ساڑھے دس بجے بندہونے کے رات ایک بجے تک کھلے رہیں گے جبکہ سال نوکے موقع پر صبح پانچ بجے تک مے نوشی کی اجازت ہوگی۔

First published: Dec 23, 2015 09:05 AM IST