உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    زرعی قوانین : سچن تیندولکر کو شرد پوار کا مشورہ ، دوسرے موضوع پر ٹویٹ کرتے ہوئے رہیں محتاط

    زرعی قوانین : سچن تیندولکر کو شرد پوار کا مشورہ ، دوسرے موضوع پر ٹویٹ کرتے ہوئے رہیں محتاط

    Sharad Pawar on Sachin Tendulkar: شرد پوار نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی سلیبریٹیز کے موقف کو لے کر لوگوں نے الگ الگ باتیں کہی ہیں ۔ سچن تیندولکر کو میرا مشورہ ہے کہ دوسرے شعبہ کے موضوعات پر ٹویٹ ہوئے محتاط رہیں ۔

    • Share this:
      مرکزی حکومت کے تین نئے زرعی قوانین کے خلاف غیرملکی شخصیات کے ٹویٹ کے جواب میں اتحاد کی بات کرتے ہوئے ٹویٹ کرنے والے عظیم کرکٹر سچن تیندولکر کو ملے جلے رد عمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ اسی سلسلہ میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سربراہ شرد پوار نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی سلیبریٹیز کے موقف کو لے کر لوگوں نے الگ الگ باتیں کہی ہیں ۔ سچن تیندولکر کو میرا مشورہ ہے کہ دوسرے شعبہ کے موضوعات پر ٹویٹ ہوئے محتاط رہیں ۔

      شرد پورا نے مزید کہا کہ اگر حکومت کے سینئر لیڈران جیسے وزیر اعظم ، وزیر دفاع اور نتن گڈکری آگے آئیں اور کسانوں کے ساتھ بات چیت کریں تو کوئی حل نکل سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کے سینئر لیڈران کوئی پہل کرتے ہیں تو کسانوں کو بھی ان کے ساتھ بیٹھنا چاہئے ۔





      خیال رہے کہ پوار کے علاوہ مہاراشٹر نونرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے نے بھی ہفتہ کو الزام لگایا کہ حکومت کو آندولن کررہے کسانوں کی حمایت میں ٹویٹ کرنے والی غیر ملکی ہستیوں پر جوابی حلہ کرنے کیلئے چلائی گئی اپنی مہم میں لتا منگیشکر اور سچن تیندولکر جیسی اہم شخصیات کو میدان میں نہیں اتارنا چاہئے تھا ۔ ایسے میں ان ہستیوں کو بھی سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا ۔

      انہوں نے کہا کہ اگر امریکی سنگر ریحانہ اور دیگر ہستیوں کا نئے زرعی قوانین کے خلاف مظاہرہ کررہے کسانوں کی حمایت کرنا ہندوستان کے داخلی معاملہ میں دخل دینے جیسا تھا تو ڈونالڈ ٹرمپ کی حمایت میں وزیر اعظم مودی کا نعرہ بھی پریشانی بھرا تھا ۔

      راج ٹھاکرے نے کہا کہ مرکز کو لتا منگیشکر اور سچن تیندولکر کو اس کے موقف کی حمیات میں ٹویٹ کرنے کیلئے نہیں کہنا چاہئے تھا اور ان کے وقار کو داو پر نہیں لگانا چاہئے تھا ۔ اب انہیں بھی سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑجائے گا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: