உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دیویندر فڑنویس کی بڑھی مشکلیں! نواب ملک کی بیٹی نیلو فر نے بھیجا 5 کروڑ کا نوٹس

    Youtube Video

    نوٹس میں کہا گیا، '14 جنوری 2021 کے پنچنامے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ گھر کی تلاشی لی گئی اور میرے مؤکل کے گھر یا ان کے پاس سے کوئی ممنوعہ/مشتبہ چیز نہیں ملی۔ لیکن آپ کو ایسی جھوٹی، فضول اور بے بنیاد معلومات کس ذریعے سے ملی، یہ تو آپ ہی جانتے ہوں گے۔'

    • Share this:
      ممبئی۔ مہاراشٹر  (Maharashtra)  کے وزیر اور این سی پی لیڈر نواب ملک NCP Leader Nawab Malik کی  بیٹی نیلوفر خان ملک (Nilophar Khan Malik) نے سابق وزیر اعلیٰ اور بی جے پی لیڈر دیویندر فڑنویس (Devendra Fadnavis) کو "ہتک عزت اور جھوٹے الزامات، ذہنی و دماغی اذیت،" اور مالی نقصان کے لیے قانونی نوٹس بھیج کر 5 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا ہے۔ این سی پی لیڈر نواب ملک اور ان کی بیٹی نیلوفر ملک خان نے بھی قانونی نوٹس ٹویٹر پر شیئر کیا ہے۔ اس نوٹس میں کہا گیا ہے کہ فڑنویس نے سمیر خان پر منشیات رکھنے کا الزام لگایا جبکہ معاملے کی تحقیقات ابھی جاری ہے۔ ہتک عزت کے قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’’آپ نے (دیویندر فڑنویس) جو کہا ویسا کا کوئی بھی الزام نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کی چارج شیٹ میں موجود نہیں ہے۔

      نوٹس میں کہا گیا، '14 جنوری 2021 کے پنچنامے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ گھر کی تلاشی لی گئی اور میرے مؤکل کے گھر یا ان کے پاس سے کوئی ممنوعہ/مشتبہ چیز نہیں ملی۔ لیکن آپ کو ایسی جھوٹی، فضول اور بے بنیاد معلومات کس ذریعے سے ملی، یہ تو آپ ہی جانتے ہوں گے۔'

      وہیں نوٹس بھیجے جانے کے بعد نواب  ملک نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ میری بیٹی نیلوفر نے فڑنویس کو ہتک عزت کا نوٹس بھیجا ہے۔ مہاراشٹر حکومت کے وزیر نے کہا کہ ملک میں منشیات کا کاروبار پھیل رہا ہے۔ این آئی اے اور این سی بی کو اس پر توجہ دے کر مناسب کارروائی کرنی چاہئے۔

      نواب ملک کی بیٹی نے یہ نوٹس ایسے وقت میں بھیجا ہے جب اداکار شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان کی منشیات کے معاملے میں گرفتاری کے بعد دیویندر فڑنویس اور نواب ملک کے درمیان الزامات کا دور چل رہا ہے۔ جہاں نواب ملک نے فڑنویس پر جعلی کرنسی کے ریکیٹ کو بچانے کا الزام لگایا ہے، فڑنویس نے دعویٰ کیا کہ ملک اور ان کے خاندان کے افراد زمین کے مشتبہ سودوں میں ملوث تھے۔

       
      Published by:Sana Naeem
      First published: