உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ملک میں بڑھتی فرقہ پرستی سے نریندرمودی خود کو الگ نہیں رکھ سکتے: شردپوار

    ممبئی۔  ملک میں بڑھتی فرقہ پرستی اور مذہبی منافرت سے وزیراعظم خود کو الگ نہیں رکھ سکتے اور دادری جیسے سانحے کی ذمہ داری صرف ریاستوں پر ہی نہیں بلکہ مرکز پر بھی طئے ہوتی ہے ۔

    ممبئی۔ ملک میں بڑھتی فرقہ پرستی اور مذہبی منافرت سے وزیراعظم خود کو الگ نہیں رکھ سکتے اور دادری جیسے سانحے کی ذمہ داری صرف ریاستوں پر ہی نہیں بلکہ مرکز پر بھی طئے ہوتی ہے ۔

    ممبئی۔ ملک میں بڑھتی فرقہ پرستی اور مذہبی منافرت سے وزیراعظم خود کو الگ نہیں رکھ سکتے اور دادری جیسے سانحے کی ذمہ داری صرف ریاستوں پر ہی نہیں بلکہ مرکز پر بھی طئے ہوتی ہے ۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      ممبئی۔  ملک میں بڑھتی فرقہ پرستی اور مذہبی منافرت سے وزیراعظم خود کو الگ نہیں رکھ سکتے اور دادری جیسے سانحے کی ذمہ داری صرف ریاستوں پر ہی نہیں بلکہ مرکز پر بھی طئے ہوتی ہے ۔ یہ باتیں  یہاں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے قومی سربراہ شردپوار نے کہیں۔ وہ یہاں پارٹی کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔


      انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ملک میں فرقہ پرستی اور مذہبی منافرت میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے اور لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال نہایت خراب ہوئی ہے ۔ اسی کے ساتھ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جہاں اس کی ذمہ داری ریاستوں پر عائد ہوتی ہے وہیں مرکز بھی اپنے آپ کو اس بری الذمہ قرار نہیں دے سکتا۔ دادری جیسے سانحات کی ذمہ داری وزیراعظم نریندر مودی پر بھی طئے ہوتی ہے ۔ مرکز کو ریاستوں سے اس طرح کے فرقہ وارنہ واقعات پر جواب طلب کرنی چاہئے اورآئندہ اس طرح کے واقعات نہ ہوں اس کے لئے گائیڈ لائن جاری کرنی چاہئے۔ فرقہ پرستی اور دادری جیسے سانحات پر کافی تاخیر سے وزیراعظم کا بیان آنے کے تعلق سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جناب پوار نے کہا کہ ناگپور سے دہلی کا فاصلہ زیادہ ہے ، جب وہاں سے آرڈر ہوتا ہے تو ہی وزیراعظم بیان دیتے ہیں۔


      ریاست میں کسانوں کی زبوں حالی اور خشک سالی سے متاثرہ کسانوں کی مدد تعلق سے پارٹی صدر نے کہا کہ ریاستی حکومت نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ متاثرہ کسانوں کی مدد کے لئے ان شرکھشا یوجنا کے تحت مدد کرے گی اور خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کے طلبہ کی تعلیمی فیس ادا کرے گی ، لیکن حکومت نے اپنا کوئی وعدہ پورا نہیں کیا۔ نہ ہی کسانوں کی کسی طرح کی مدد کی گئی اور نہ ہی طلبہ کی فیس ادا کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی نے ریاستی حکومت کی اس کسان مخالف پالیسی کے خلاف ریاست بھر میں احتجاج کیا تھا جس کے بعد مذکورہ بالا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد جب ہم نے دیکھا کہ حکومت کچھ نہیں کررہی ہے تو طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو اس کے لئے ہماری پارٹی نے متاثرہ علاقوں کے ۳۵ہزار طلبہ کی تعلیمی فیس ادا کی۔ اسی فیس کی ادائیگی کے دوران یہ معلوم ہوا کہ حکومت کی جانب سے کسی طالب علم کی فیس اد نہیں کی گئی ہے۔


      ریاستی حکومت کے گرنے اور وسط مدتی انتخابات کے امکانات پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جناب شرد پوار نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ حکومت گرے گی یا وسط مدتی انتخابات ہونگے۔ابتداء میں ہمیں حکومت میں شامل دونوں پارٹیوں کے لیڈران عزت وقار کی بات کرتے تھے اس لئے ہمیں لگتا تھاکہ حکومت اپنی معیاد پوری نہیں کرسکے گی۔ لیکن اب جس طرح یہ اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں اس سے لگتا ہے کہ بھلے ہی ان میں کسی بھی حدتک اختلاف پیدا ہوجائیں یہ عزت وقار کے لئے اپنے اقتدار سے نہیں ہٹیں گے۔ ہم نے ابتداء میں بی جے پی کی حمایت محض ایک مستحکم حکومت کے قیام کے لئے کی تھی ، مگر اس ایک سال میں انہوں نے کسانوں کے مفادات سے جس طرح کھلواڑ کیا ہے اس سے ہم اب ان سے اپنی برأت کا اظہار کرتے ہیں ۔اس پریس کانفرنس میں پارٹی کے قومی صدر کے علاہ ریاستی صدر سنیل تٹکرے، قومی ترجمان نواب ملک، حزبِ مخالف کے لیڈر دھنن جئے منڈے، فوزیہ تحسین اور ممبئی کے صدر سچن بھاؤ اہیر بھی موجود تھے۔

      First published: