ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

مشہور شاعر و فلمی نغمہ نگار ندا فاضلی نہیں رہے، دل کا دورہ پڑنے سے ہوا انتقال

ممبئی۔ اردو کے مشہور شاعر ندا فاضلي کا 78 سال کی عمر میں یہاں دل کا دورہ پڑنے سے سے انتقال ہو گیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 08, 2016 04:46 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مشہور شاعر و فلمی نغمہ نگار ندا فاضلی نہیں رہے، دل کا دورہ پڑنے سے ہوا انتقال
ممبئی۔ اردو کے مشہور شاعر ندا فاضلي کا 78 سال کی عمر میں یہاں دل کا دورہ پڑنے سے سے انتقال ہو گیا۔

ممبئی۔ اردو کے مشہور شاعر ندا فاضلي کا 78 سال کی عمر میں یہاں دل کا دورہ پڑنے سے سے انتقال ہو گیا۔ انہوں نے دن میں کوئی ساڑھے گیارہ بجے آخری سانس لی۔ 12 اکتوبر 1938 کو دہلی میں پیدا ہوئے ندا فاضلی کا مکمل نام مقتدا حسن حسن ندا فاضلی تھا۔ ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ پدم شری ندا فاضلی کا بچپن اور جوانی گوالیار میں گزری جہاں سے انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کی۔ 1957 میں گوالیار کالج سے گریجویٹ ہونے والے ندا نے چھوٹی عمر سے ہی لکھنا شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے اپنا قلمی نام ندا فاضلی رکھا تھا۔ان کے اجداد کا تعلق کشمیرسے بتایا جاتا ہے جہاں سے آکر ان کے آبا دہلی میں بس گئے تھے۔ان کے والد بھی اردو کے شاعر تھے۔ تقسیم ہند کے بعد ان کے والدین اور خاندان کے لوگ پاکستان چلے گئے، لیکن ندا فاضلی نے ہندستان میں رہنے کو ترجیح دی۔


ندافاضلی عوام اور خواص دونوں کے شاعر تھے۔ ان کے یہ مصرع زبان زد عام ہیں ’’ دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے۔ مل جائے تو مٹی ہے، کھو جائے تو سونا ہے۔ان کے جن نغمات نے جادو جگائے ان میں ’’ آبھی جا‘‘، ’’تو اس طرح سے مری زندگی میں شامل ہے‘‘، ہوش والوں کو خبر کیا‘‘ شامل ہیں۔ بچپن میں ندا ایک مندر سے بھجن کی آواز سن کرشاعری کی طرف مائل ہوئے۔ انسانیت کو انہوں نے اپنی شاعری کا محور بنایا۔ وہ مرزا اسداللہ خاں غالب اور میر تقی میر سے متاثر تھے، میرا اور کبیر سے بھی انہوں نے ذہنی استفادہ کیا۔ایلئیٹ، گگول، اینٹن چکوف (انتون چیخوف) اور ٹکاساکی کو بھی خوب پڑھا اور اپنی شاعرانہ صلاحیتوں میں اضافہ کیا۔


ابتدائی دنوں میں ندا فاضلی ملازمت کی تلاش میں ممبئی آئے اورجریدہ دھرم یُگ اور بلٹز کے لئے کافی دنوں تک لکھتے رہے۔ ان کا شاعرانہ لہجہ لوگوں کو پسند آیا۔اس طرح فلم بنانے والوں کی نظربھی ان پر پڑی ۔وہ مشاعروں میں بھی اپنا ایک مخصوص انداز رکھتے تھے۔

تقسیم ہند سے مطلق اتفاق نہ کرنے والے فاضلی، مذہب کے نام پر فسادات، سیاستدانوں اور فرقہ پرستوں پر جم کر تنقید کرتے ہیں۔ مذہبی رواداری پر کام کرنے کے لئے انہیں بہت سارے اعزازات ملے۔ انہوں نے اب تک 24 کتابیں لکھیں۔ مہاراشٹر حکومت کی جانب سے میر تقی ایوارڈ ملا۔ مختلف صوبائی حکومتوں کے ٹکسٹ بکس میں ان کی سوانح اور تخلیقات بھی ہیں۔


’’لفظوں کے پھول‘‘،’’ مور ناچ‘‘،’’ آنکھ اور خواب کے درمیان‘‘،’’ سفر میں دھوپ تو ہوگی‘‘،’’ کھویا ہوا سا کچھ‘‘،’’ دنیا ایک کھلونا ہے‘‘ مرحوم کی شاعری کے مقبول مجموعے ہیں۔ 2003 میں ندا فاضلی ا سٹار سکرین ایوارڈ برائے بہترین نغمہ نگاری ( فلم سُر)اور اسی سال بالی ووڈ مووی ایوارڈ -( فلم ‘سُر‘) سے نوازے گئے۔

First published: Feb 08, 2016 03:18 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading