உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ا ب ہندو۔ مسلم فرقہ وارانہ فساد کبھی نہیں ہونے دیں گے : ویسن مکتی مہا کنبھ مہا سمیلن

    احمد آباد۔ اوبی سی ایکتا منچ اور گجرات چھتری ٹھاکر سینا کی جانب سے شراب پر پابندی پر سختی سے عمل کرنے کے مطالبہ کو لے کر آج گاندھی نگر کی  ستیا گرہ چھاونی میں ’ ویسن مکتی مہا کنبھ مہا سمیلن‘  (منشیات سے نجات پروگرام)  کا اہتمام کیا گیا۔

    احمد آباد۔ اوبی سی ایکتا منچ اور گجرات چھتری ٹھاکر سینا کی جانب سے شراب پر پابندی پر سختی سے عمل کرنے کے مطالبہ کو لے کر آج گاندھی نگر کی ستیا گرہ چھاونی میں ’ ویسن مکتی مہا کنبھ مہا سمیلن‘ (منشیات سے نجات پروگرام) کا اہتمام کیا گیا۔

    احمد آباد۔ اوبی سی ایکتا منچ اور گجرات چھتری ٹھاکر سینا کی جانب سے شراب پر پابندی پر سختی سے عمل کرنے کے مطالبہ کو لے کر آج گاندھی نگر کی ستیا گرہ چھاونی میں ’ ویسن مکتی مہا کنبھ مہا سمیلن‘ (منشیات سے نجات پروگرام) کا اہتمام کیا گیا۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      احمد آباد۔ اوبی سی ایکتا منچ اور گجرات چھتری ٹھاکر سینا کی جانب سے شراب پر پابندی پر سختی سے عمل کرنے کے مطالبہ کو لے کر آج گاندھی نگر کی  ستیا گرہ چھاونی میں ’ ویسن مکتی مہا کنبھ مہا سمیلن‘  (منشیات سے نجات پروگرام)  کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر گاندھی نگر ستیا گرہ چھاونی میں لاکھوں کی تعداد میں عوام کا ایک سیلاب امنڈتا نظر آیا۔ پولیس نے بھی سیکیوریٹی کے  پختہ انتظامات کیے تھے۔ اس موقع پر گجرات میں  شراب پر  پابندی ، لوگوں کو منشیات سے نجات دلانے اورروزگاری و ملازمت کے کثیر مواقع فراہم کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا گیا۔ اوبی سی ایکتا منچ کے صدر الپیش ٹھاکر کی صدارت میں پروگرام رکھا گیا ۔  تمام  جماعت کے لوگوں کےساتھ دلت لیڈر ، جگنیش میوانی اور مسلم برادری کے لو گوں نے بھی اس موقع پر الپیش ٹھاکر کا استقبال کیا۔ الپیش ٹھاکر کی اس مہم میں  ہاردک پٹیل کی حمایت بھی ساتھ  رہی۔


      اس موقع پر الپیش ٹھاکر نے گجرات حکومت کو الٹی میٹم دیا کہ’’ میں مر جاؤں گا مگر شراب بندی پر سخت  قانون بنے بغیر گھر نہیں جاؤں گا۔ الپیش ٹھاکر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرکار شراب بندی قانون کو سخت  بنانے کے لئے  تحریر ی طور پرہمیں یقین دہانی کرے ۔ اس کے لئے اپلیش نے  شام چھ بجے تک کا الٹی میٹم سرکار کو دیا ۔ اگر سرکار نے جواب نہیں دیا تو ٹھاکر سینا رات میں بھی اسی گراؤنڈ میں بیٹھی رہے گی اور اپنے حق کی لڑائی لڑتی رہے  گی۔

      First published: