உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ٹھاکرے کا وزیر اعظم پر نشانہ ، اب بے نامی جائیداد کے نام پر عوام کی چڈی اور بنیان نہ اتاریں مودی

    وزیر اعظم مودی۔ ادھو ٹھاکرے: فائل فوٹو

    وزیر اعظم مودی۔ ادھو ٹھاکرے: فائل فوٹو

    شیوسینا کے صدر اودھو ٹھاکرے نے پارٹی کے ترجمان اخبار سامنا میں لکھا ہے 'نوٹ بندی کے بعد اب وزیر اعظم نے بے نامی جائیدادا پر نشانہ سادھا ہے۔

    • IANS
    • Last Updated :
    • Share this:
      ممبئی : بی جے پی کی اتحادی پارٹی شیو سینا نے نوٹ بندی کو لے کر ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم مودی پر تیکھا نشانہ سادھا ہے۔ شیو سینا نے کہا کہ مودی ملک میں بے نامی جائیداد کو بے نقاب کرنے کے نام پر عوام کی چڈي اور بنیان نہ اتاریں۔ شیوسینا کے صدر اودھو ٹھاکرے نے پارٹی کے ترجمان اخبار سامنا میں لکھا ہے 'نوٹ بندی کے بعد اب وزیر اعظم نے بے نامی جائیدادا پر نشانہ سادھا ہے۔ یہ ایک انتہائی قابل ستائش قدم ہے .. لیکن نوٹ بندی کی ہی طرح بے نامی جائیدادکی آڑ میں غریب اور متوسط ​​طبقے کو نہیں کچلا جانا چاہئے۔
      انہوں نے کہا کہ متعدد سیاستدانوں، تاجروں، غیر مقیم ہندوستانیوں اور مافیا نے پہلے ہی اپنا کالا دھن جائیدادوں میں لگا رکھا ہے، لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ نوٹ بندی کے بعد عام آدمی پر بے ایمان ہونے کا لیبل چسپاں کر کر دیا گیا۔افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اودھو ٹھاکرے نے لکھا کہ 'مودی نے بیرون ملک بینکوں میں رکھی ہندوستانیوں کی ناجائز کمائی کو واپس لانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن حقیقت ہے کہ ایک روپیہ بھی نہیں لایا گیا اور نہ ہی ایسا دھن رکھنے والوں کو ایک پیسے کا بھی نقصان ہوا۔ عام لوگوں نے نوٹ بندی کی چوٹ برداشت کی اور اب بھی تکلیف جھیل رہے ہیں۔ ' انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی کے بعد عوام کی تکلیف بڑھ گئی ہیں ، لیکن کالا دھن رکھنے والا ایک بھی شخص یا صنعتکار جیل میں نہیں ڈالا گیا۔
      سرجیکل اسٹرئیک پر نشانہ سادھتے ہوئے ٹھاکرے نے کہا کہ پڑوسی ملک (پاکستان) اب تھی دہشت کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کے نتیجہ میں اب تک 50 سے زیادہ فوجی شہید ہو چکے ہیں۔ ٹھاکرے نے لکھا کہ سرجیکل اسٹرائیک کا حکومت کی بڑی جیت کے طور پر پروپیگنڈہ کیا گیا ، لیکن وہ (حکومت) ہمارے فوجیوں کا دفاع کرنے میں ناکام رہے۔ اب ایک سوال ہے: حقیقت میں بے ایمان کون ہے؟ '
      ادھو نے حکومت سے اس بات کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا کہ بے نامی جائیداد کے خلاف ممکنہ کارروائی میں عوام کو نوٹ بندی جیسی تکلیف نہ ہو اور نہ ہی عوام کو کپڑے اتار کر سڑکوں پر پھینک دیا جائے۔
      First published: