اپنا ضلع منتخب کریں۔

    پرون توگڑیا نے پھر الاپا رام مندر کا راگ ، کہا : بہت جلد ہوگی مندر کی تعمیر

    اورنگ آباد : وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے سینئر لیڈر پروین توگڑیا نے کہا ہے کہ اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے معاملے کو صرف قانون ہی سے حل کیا جا سکتا ہے

    اورنگ آباد : وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے سینئر لیڈر پروین توگڑیا نے کہا ہے کہ اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے معاملے کو صرف قانون ہی سے حل کیا جا سکتا ہے

    اورنگ آباد : وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے سینئر لیڈر پروین توگڑیا نے کہا ہے کہ اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے معاملے کو صرف قانون ہی سے حل کیا جا سکتا ہے

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      اورنگ آباد : وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے سینئر لیڈر پروین توگڑیا نے کہا ہے کہ اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے معاملے کو صرف قانون ہی سے حل کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر پروین توگڑیا نے آج نامہ نگاروں کو بتایا کہ رام مندر کی تعمیر بہت جلد اجودھیا میں ہوگی جس کا حل صرف قانون بنانے سے ہی ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ "رام مندر کی تعمیر کا ایجنڈا وی ایچ پی کا ہے اور ہم لوگوں سے اپنے عہد و پیمان کو پورا کریں گے۔
      انہوں نے کہاکہ " مجھے اس بات پر یقین ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے اپنے وعدے اور اپنی پارٹی کی قرارداد كو پورا کریں گے اور وہ جلد ہی پارلیمنٹ میں اس سلسلے میں بل لائیں گے۔  مہاراشٹر میں بی جے پی-شیو سینا اتحاد ی حکومت میں دونوں پارٹیوں کے لیڈروں اور وزراء کے درمیان جاری الزام تراشیوں کے سلسلے میں ڈاکٹر توگڑیا نے کہا کہ یہ دو بھائیوں کے درمیان کی لڑائی ہے اور اس سے حکومت کے کام کاج پر کوئی زیادہ اثر نہیں پڑے گا کیونکہ دونوں کے نظریات ایک طرح کے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ جلد اس کا حل ہوجائے گا۔
      وی ایچ پی کے لیڈر نے مرکزی حکومت سے تمباکو اور شراب مصنوعات پر پابندی لگا کر ملک کو امراض سے پاک کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ جو بھی ملک میں تمباکو کی مصنوعات تیار کر رہے ہیں انہیں تمباکو کی جگہ متبادل مصنوعات کے لئے حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔اس صنعت میں جو لوگ بھی شامل ہیں انہیں روزگار فراہم کیا جانا چاہیے۔انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کو تمباکو سے ہر سال 19 ہزار کروڑ روپے کی آمدنی ہوتی ہے لیکن اس سے ہونے والے کینسر سے ایک لاکھ کروڑ روپے ہر سال خرچ ہو رہا ہے۔
      First published: