ہوم » نیوز » No Category

مسلم ریزرویشن اور تحفظ شریعت کے عنوان سے ناندیڑ میں عظیم الشان خاموش احتجاجی مورچہ کا اہتمام

ناندیڑ۔ مسلم ریزوریشن، تحفظ شریعت، بے گناہ مسلم نوجوانوں کی رہائی اور گئو رکشا کے نام پر مسلمانوں اور دلتوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف ناندیڑ کے مسلمانوں نے تاریخی اور بے مثال خاموش احتجاجی مورچہ کا اہتمام کیا ۔

  • ETV
  • Last Updated: Nov 28, 2016 06:06 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
مسلم ریزرویشن اور تحفظ شریعت کے عنوان سے ناندیڑ میں عظیم الشان خاموش احتجاجی مورچہ کا اہتمام
ناندیڑ۔ مسلم ریزوریشن، تحفظ شریعت، بے گناہ مسلم نوجوانوں کی رہائی اور گئو رکشا کے نام پر مسلمانوں اور دلتوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف ناندیڑ کے مسلمانوں نے تاریخی اور بے مثال خاموش احتجاجی مورچہ کا اہتمام کیا ۔

ناندیڑ۔ مسلم ریزوریشن، تحفظ شریعت، بے گناہ مسلم نوجوانوں کی رہائی اور گئو رکشا کے نام پر مسلمانوں اور دلتوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف ناندیڑ کے مسلمانوں نے  تاریخی اور بے مثال خاموش احتجاجی مورچہ کا اہتمام کیا ۔ مورچہ میں مرد خواتین نے لاکھوں کی تعداد میں شرکت درج کرتے ہوئے مسلمانوں کے باہمی اتحاد کی شاندار مثال قائم کی ۔ ناندیڑ کے نیا مونڈھا میدان سے مورچہ کی شروعات ہوئی۔ آئی ٹی آئی چوک، شیواجی نگر، کلامندر سے ہوتے ہوئے دفتر ضلع کلکٹر پر مورچہ کا اختتام عمل میں آیا ۔ مورچہ میں لوگوں کی شرکت کا عالم یہ تھا کہ جس وقت مورچہ اپنے اختتامی مقام پر پہنچا ا س کی آخری صف نیا مونڈھا میدان پر روانہ ہورہی تھی ۔ جس راستہ سے یہ مورچہ گذر تا جا رہا تھا ہر طرف انسانی سروں کا سمندر ہی نظر آرہا تھا ۔ نہایت نظم وڈسپلن کے ساتھ اور کسی بھی طرح کی کوئی نعرے بازی سے گریز کرتے ہوئے مورچہ کو نکالا گیا ۔ مورچہ میں شریک خواتین حجاب میں تھیں جبکہ عام لوگ اپنے سروں پر ٹوپیاں پہنچے ہوئے اسلامی شناخت کو پیش کررہے تھے ۔


 مسلم آرکشن سنگھرش کرتی سمیتی کے بینر تلے اس احتجاجی  مورچہ میں لاکھوں لوگوں کی شرکت کو دیکھتے ہوئے سارے انتظامات نہایت باریک بینی سے کئے گئے تھے ۔الگ الگ کاموں کے لئے کمیٹیاں بنائی گئی تھیں ۔ کنونیر محمد الطاف حسین  نے بتایا کہ دوہزار سے زائد والینٹرس کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جس میں پانچ سو سے زائد خواتین شامل ہیں  ۔اس کے علاوہ پولیس انتظامیہ نے بھی وسیع سیکوریٹی انتظامات کئے تھے ۔صبح  سے ہی مورچہ میں لوگوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے نیا مونڈھا میدان میں پانچ لاکھ سے زائد مرد و خواتین پہنچ گئیں ۔


 مورچہ میں سب سے آگے خواتین کو رکھا گیا اس کے بعد طلبہ کو رکھا گیا ۔ اس کے بعدعلماء وکلاء اور ڈاکٹروں کو رکھا گیا ۔ سب سے آخر میں بزرگ اور عام نوجوانوں کو شامل کیا گیا ۔ مورچہ کے روٹ پر جگہ جگہ کھانے کے پیکٹ اور پانی کے پاکٹ تقسیم کئے گئے ۔ مسلم تنظیموں کے علاوہ مراٹھا اور دلت تنظیموں کے نمائندوں نے بھی مورچہ میں شریک لوگوں کو پانی پلایا اور کھانا تقسیم کیا ۔ مورچہ پر باریک بینی سے نظر رکھنے کیلئے تین ڈرون کیمرے اور سو سے زائد پروفیشنل کیمرے نصب کئے گئے تھے ۔ مورچہ کے چاروں طرف کسی بھی طرح کے ہنگامی حالات میں ایمبولنس کا نظم کیا گیا تھا ۔ مجموعی طورپر یہ مورچہ اپنے مقصد میں کامیاب رہا ۔

First published: Nov 28, 2016 06:06 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading