உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    الگ راہ اختیار کر اردو کے گیسو سنوار رہے ہیں شاعرشاہ حسین نہری

    اورنگ آباد (اظہرالدین ) اورنگ آباد شہر کے مسلم اکثریتی علاقے راحت کالونی میں اس بات سے بے پروا کہ اس کے حصے میں کیا آیا ، ایک متشرع شخص انتہائی ہی خاموشی سے پچھلی چھ دہائیوں سے اردو کے گیسو سنوارنے میں مصروف ہے۔ یہ ہیں شاعر شاہ حسین نہری ، جن کو ادبی دنیا میں میردوراں کہا جاتا ہے ۔

    اورنگ آباد (اظہرالدین ) اورنگ آباد شہر کے مسلم اکثریتی علاقے راحت کالونی میں اس بات سے بے پروا کہ اس کے حصے میں کیا آیا ، ایک متشرع شخص انتہائی ہی خاموشی سے پچھلی چھ دہائیوں سے اردو کے گیسو سنوارنے میں مصروف ہے۔ یہ ہیں شاعر شاہ حسین نہری ، جن کو ادبی دنیا میں میردوراں کہا جاتا ہے ۔

    اورنگ آباد (اظہرالدین ) اورنگ آباد شہر کے مسلم اکثریتی علاقے راحت کالونی میں اس بات سے بے پروا کہ اس کے حصے میں کیا آیا ، ایک متشرع شخص انتہائی ہی خاموشی سے پچھلی چھ دہائیوں سے اردو کے گیسو سنوارنے میں مصروف ہے۔ یہ ہیں شاعر شاہ حسین نہری ، جن کو ادبی دنیا میں میردوراں کہا جاتا ہے ۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      اورنگ آباد (اظہرالدین ) اورنگ آباد شہر کے مسلم اکثریتی علاقے راحت کالونی میں اس بات سے بے پروا کہ اس کے حصے میں کیا آیا ، ایک متشرع شخص انتہائی ہی خاموشی سے پچھلی چھ دہائیوں سے اردو کے گیسو سنوارنے میں مصروف ہے۔ یہ ہیں شاعر شاہ حسین نہری ، جن کو ادبی دنیا میں میردوراں کہا جاتا ہے ۔
      یوں تو اورنگ آباد کی سرزمین اپنی تاریخی و تہذیبی تشخص ، مردم خیزی اور اپنے علمی و ادبی کارناموں کی وجہ سے ہمیشہ ہی نمایاں رہی ہے۔ ولی سراج کے بعد گذشتہ دو سوبرس میں شہر اورنگ آباد ادبی و شعری دنیا میں کافی سرگرم اور متحرک رہا ہے ۔ مشہورزمانہ دبستان دکن کا وجود صرف حیدرآباد اور فرخندہ کے روایتی علاقے چارمینار سے قلعہ گولکنڈہ تک ہی نہیں ، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اورنگ آباد ، گلبرگہ، بیدر اور بیجاپور کے بغیر دبستان دکن کی تکمیل نہیں ہوسکتی۔
      بیسوی صدی کی چھٹی اور ساتویں دھائی میں ہونے والی جدید اردو شاعری کا جب بھی کوئی تذکرہ ہوگا ، تو اورنگ آباد کے شاعروں میں قاضی سلیم، بشر نواز، سکندر علی وجد، شفیق فاطمہ، جاوید ناصر، عارف خورشید اور شاہ حسین نہری کے نام ضرور لیے جائیں گے۔
      پروفیسر شاہ حسین نہری دور حاضر کے ایک معروف خوش فکر اور کہنہ مشق شاعر ہیں۔ اب تک ان کا 10 مجموعہ کلام منظر عام پر آچکا ہے ، جن میں شب آہنگ اور شب تاب غزلوں کے مجموعے ہیں۔ سامان تسکین اور حمد و منقبت کامجموعہ بھی ہے۔
      شاہ حسین نہری کا آبائی وطن اورنگ آباد ہے ۔ اسی شہر میں ان کی پرورش اور تعلیم وتربیت ہوئی۔ ایم اے کرنے کے بعد انھوں نے تدریسی پیشہ اختیار کیا اور بیڑ ضلع کے بل بھیم کالج میں لیکچرر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ نہری کو لڑکپن سے ہی شعر وشاعری سے فطری لگاؤ تھا اور گزرتے وقت کے ساتھ ان کی شاعری میں بھی نکھارآتا گیا ، لیکن نہری کی رباعیات نے ادبی دنیا میں انھیں منفرد شناخت دلائی ۔
      تاہم یہ کہناغلط نہیں ہوگا کہ شاہ حسین نہری ربائی کے فن میں امتیازی شان رکھتے ہیں۔ رباعیات پر مشتمل ان کے دو دیوان ایک ربیعہ اور دوسرا دیوان شاہ بانی اردو کے ادبی سرمایے میں اضافہ کرچکے ہیں۔ اردو ادب میں شاہ حسین نہری وہ پہلے شاعر کہلانے کے مستحق ہیں، جنھوں نے اپنی اہلیہ کی یاد میں رباعی کی ہیئت میں مرثیہ لکھا ۔ اس مجموعہ کا نام گلبدن کی یاد میں ہے۔
      شاہ حسین نہری کی شاعری کا امتیازی وصف یہ ہے کہ انھوں نے جس صنف میں طبع آزمائی کی ، اس میں اپنی الگ راہ اختیار کی ۔ انہوں نے غزل، نظم ، رباعی، اور ثلاثی کے علاوہ بچوں کے لیے نظمیں بھی لکھیں۔ بچوں کے لیے ان کا مجموعہ میرے گلشن کے پھول کافی مقبولیت حاصل کرچکاہے ۔
      شاہ نہر حسین کے کلام کو بر صغیر ہند وپاک میں کافی پسند کیا گیا ہے ۔ ان کا کلام بال بھارتی کے نصابی کتب میں بھی شامل کیا جاچکا ہے۔ اتنا ہی نہیں شاہ حسین نہری کو ملے انعامات اور اعزازت کی ایک طویل فہرست ہے ، جن میں سب سے اہم مہاراشٹراردو ساہتیہ اکاڈمی کے دو ایوارڈس کے علاوہ سراج اورنگ آبادی اسٹیٹ ایوارڈ ہے۔
      شاعری کے علاوہ شاہ صاحب نے ادبی اور دینی مضامین بھی لکھے ہیں، جو ہند وپاک کے موقر اخبارات کی زینت بن چکے ہیں ، جبکہ کلیات گل کنج اشاعت کے مرحلے میں ہے۔ اورنگ آباد کی ادبی انجمن عالمگیر ادب نے شاہ حسین نہری ، فن اور شخصیت کے عنوان سے ایک ضخیم کتاب شائع کی ہے ۔ اس کتاب میں شاہ حسین نہری کی شخصیت کے ہمہ جہت پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ یہ کتاب اپنے آپ میں ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔

      First published: