ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

ممبئی میں 6دسمبر کو بابری مسجد کی شہادت کا فیصلہ آنے کے بعد پہلی برسی پرپولیس بندوبست سخت

ممبئی میں 6 دسمبر بابری مسجد کی شہادت کا فیصلہ آنے کے بعد پہلی برسی کے موقع پر پولیس نے شہر و مضافات میں الرٹ جاری کیا ہے۔

  • Share this:
ممبئی میں 6دسمبر کو  بابری مسجد کی شہادت کا فیصلہ آنے کے بعد پہلی برسی پرپولیس بندوبست سخت
بابری مسجد کی شہادت پر ممبئی میں یوم سیاہ

ممبئی میں 6 دسمبر بابری مسجد کی شہادت کا فیصلہ آنے کے بعد پہلی برسی کے موقع پر پولیس نے شہر و مضافات میں الرٹ جاری کیا ہے۔ برسی پر یوم غم اور یوم سیاہ سمیت دیگر مجالس  و احتجاجات پر بھی انٹلیجنس ایجنسیوں کی نظر رہے گی۔ مساجد سمیت گھروں میں مسلمانوں سے 3 بجکر 45 منٹ پر اذان دینے کی اپیل رضا اکیڈمی نے کی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف سیاسی سماجی اور مسلم تنظیموں نے اس روز بابری مسجد کے قضیہ اور بابری مسجد کی شہادت جمہوریت کیلئے بدنما دھبہ موضوعات کے تحت پروگرام اور آن لائن میٹنگ اور ویبنار تک منعقد کئے ہیں۔  وحدت اسلامی, پاپولر فرنٹ آف انڈیا نے بھی بابری مسجد کی برسی پر احتجاجات اور جلسے اور تقریبات و احتجاجات اور میمورنڈم ارسال کرنے کا پروگرام مرتب کیا  ہے اسی لئے انٹلیجنس ایجنسیوں نے بھی اب ان تمام سر گرمیوں پر نگرانی رکھنی شروع کردی ہے۔ ممبئی شہر و مضافات میں میں بابری مسجد کی شہادت پر اذان دینے کا فیصلہ مسلم تنظیموں نے کیا ہے رضا اکیڈمی مینار مسجد کے پاس احتجاج بھی کریگی ساتھ ہی بابری مسجد کی بازیابی کیلئے دعا بھی کی ہوگی یہ اطلاع رضا اکیڈمی کے سر براہ الحاج سعید نوری نے دی ہے۔

ممبئی پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ نے تمام اعلی افسران کو الرٹ رہنے کے احکامات جاری کئے ہیں اس کے علاوہ پولیس کو یہ ہدایت دی ہے کہ ہر قسم کی سر گرمیوں پر نظر رکھی جائے اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر بھی پولیس کی نگرانی رہے گی کیونکہ سوشل میڈیا سے فرقہ وارایت کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ممبئی کے جوائنٹ پولیس کمشنر وشواس ناگرے پاٹل  نظم و نسق نے بھی حالات پر نگرانی کیلئے میٹنگ منعقد کی تھی جس میں اعلی افسران شریک تھے۔ ایڈیشنل کمشنر ایس بی ون سنیل کولہے نے بتایا کہ 6 دسمبر بابری مسجد کی شہادت اور ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی یوم وفات کے پیش نظر پولیس کا بندوبست معمولات کے مطابق ہی ہوتا ہے لیکن امسال بابری مسجد کے تعلق سے فیصلہ ہوچکا ہے۔ اس لئے حالات پر نظر رکھی جارہی ہے جبکہ ممبئی شہر میں امن و بقا کیلئے مسلم عمائدین شہر اور علماء کرام کوشاں رہتے ہیں اس لئے یہاں حالات سازگار ہیں۔


انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود پولیس کسی بھی قسم کا کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتی اس لئے تمام مساجد سمیت عبادتگاہوں پر پولیس کا سخت بندوبست رہے گا۔ کورونا کے سبب احتجاجات جلسے جلوس اور دیگر مذہبی تقریبات کو اجازت نہیں  ہے۔ ایسی صورتحال میں پولیس شہر و مضافات میں نگرانی رکھے گی انہوں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی و نفرت انگیزیوں کا حصہ بننے کے بجائے ایسے مشمولات کی اطلاع پولیس کو فراہم کریں تاکہ اس پر بروقت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر نوجوان نسلوں کو ورغلا کر انہیں گمراہ کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے اس سے ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے پولیس ہر طرح کے حالات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح مستعد ہے۔ سنیل کولہے نے بتایا کہ شہر میں بابری مسجد کی شہادت کی برسی کے پیش نظر حساس علاقوں میں بندوبست تعینات کر دیا گیا ہے جن علاقوں میں ماضی میں فسادات برپا ہوئے تھے ان علاقوں میں خاص توجہ دی جارہی ہے۔

Published by: sana Naeem
First published: Dec 04, 2020 05:07 PM IST