ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

پارلیمانی انتخابات میں مسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے نمائندگی دی جائے گی: ندیم جاوید

ندیم جاوید نے کہا کہ سیکولر ووٹوں کے انتشار کے لئے بی جے پی کئی محاذ پر کام کررہی ہے، دلت اور مسلمان اس کے سب سے کارگر ہتھیار ہیں اور اب اس نے ذات پات کو بھی ایک ہتھیار کے طور پر استعمام کرنا شروع کردیا ہے جس کی مثال ہریانہ کے جند کے ضمنی انتخاب میں دیکھا جاسکتا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 31, 2019 10:08 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
پارلیمانی انتخابات میں مسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے نمائندگی دی جائے گی: ندیم جاوید
آل انڈیا کانگریس اقلیتی شعبہ کے چیئرمین ندیم جاوید: فائل فوٹو

ریاست مہاراشٹر میں48 لوک سبھا نشستیں ہیں اور15فیصد سے زائد مسلم آبادی ہے ، لہذا کوشش یہ کی جائے گی کہ مسلمانوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے پارلیمانی انتخابات میں نمائندگی دی جائے۔ اس قسم کی سفارش کانگریس اقلیتی شعبہ پارٹی لیڈران سے کرے گا اور اسے یقینی بنانے کی حتی المقدور کوشش کی جائے گی۔ یہ یقین دہانی آج یہاں پارٹی کے اقلیتی شعبہ کے کل ہند صدر ندیم جاوید نے ممبئی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران کی جس کا انعقاد مہاراشٹر اقلیتی شعبہ نے کیا تھا اور جس میں ریاست بھر کے اقلیتی شعبہ کے ذمہ داران نے شرکت کی۔ جس سے سابق اقلیتی امور وزیر، سینئر کانگریسی رکن اسمبلی نسیم خان، ریاستی اقلیتی شعبے کے سربراہ ایم ایم شیخ، سابق وزیر انیس احمد، حج کمیٹی کے رکن ابراہیم بھائی جان اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

ندیم جاوید نے اس موقع پر کہا کہ آج ملک جس دور سے گزر رہا ہے، وہ جگ ظاہر ہے اور ماضی میں بھی سابق آنجہانی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کی قیادت میں بی جے پی حکومت برسرِ اقتدار تھی، لیکن اس وقت اس کے خلاف عوامی سطح پر اتنی ناراضگی نہیں تھی، جتنی کہ موجودہ حکومت کے کارکردگی سے آج ہورہی ہے اور اقلیتوں، دلتوں اور دیگر طبقات کو حکومت کے خلاف صف آراءدیکھا جاسکتا ہے۔ جس کا ثبوت حالیہ انتخابات کے نتائج ہیں جہاں بی جے پی کو منہ کی کھانی پڑی۔


انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت سرکاری مشینریوں کا استعمال کرکے رائے دہندگان کو لبھانے کی اور ان کی صفوں میں انتشار پیدا کرنے کی کوششیں کررہی ہے، جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ سیکولر ووٹوں کے انتشار کے لئے بی جے پی کئی محاذ پر کام کررہی ہے، دلت اور مسلمان اس کے سب سے کارگر ہتھیار ہیں اور اب اس نے ذات پات کو بھی ایک ہتھیار کے طور پر استعمام کرنا شروع کردیا ہے جس کی مثال ہریانہ کے جند کے ضمنی انتخاب میں دیکھا جاسکتا ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نسیم خان نے کہا کہ ملک میں جہاں جہاں بھی بی جے پی کا کانگریس سے دوبدو مقابلہ ہوگا، وہاں کانگریس ہی کامیاب ہوگی لیکن اس کا توڑ بی جے پی کے لوگ ووٹوں کی تقسیم سے نکال رہے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے سیکولر ووٹوں کی تقسیم کے لئے اپنی کئی بی ٹیموں کو میدان میں اتارا ہے جو سماج میں انتشار پپدا کرکے بی جے پی کو کامیاب کرانے کی کوشش کریں گے، ہمیں ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنا ہوگا۔
اس جلسے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس اقلیتی شعبہ کے صدر ندیم جاوید نے ایم آئی ایم کو بی جے پی کا بی ٹیم قرار دیا اور کہا کہ ایم آئی ایم کو ووٹ دینا گویا بی جے پی کو ووٹ دینا ہے۔ اس پریس کانفرنس سے ایم ایم شیخ نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ ریاست کی ان تمام سیٹیوں سے جہاں اقلیتی ووٹ اثرانداز ہوسکتے ہیں، وہاں سے کانگریس کو کامیاب کرایا جائے۔ جبکہ ابراہیم بھائی جان نے بھی اس جلسے سے خطاب کیا۔
First published: Jan 31, 2019 09:46 PM IST