உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پربھنی میں مسلم نوجوانوں نے کیا سوشل میڈیا کے بائیکاٹ کا فیصلہ

    پربھنی کے مسلم نوجوانوں نے احتیاتی طورپر فیس بک ،وہاٹس ایپ اور ٹویٹر جیسے سوشل سائٹس سے بچنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جبکہ طلبہ تنظیم ایس آئی او سوشل میڈیا کا بائیکاٹ کرنے کی بجائے اس کا صحیح استعمال کی تلقین کررہی ہے

    پربھنی کے مسلم نوجوانوں نے احتیاتی طورپر فیس بک ،وہاٹس ایپ اور ٹویٹر جیسے سوشل سائٹس سے بچنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جبکہ طلبہ تنظیم ایس آئی او سوشل میڈیا کا بائیکاٹ کرنے کی بجائے اس کا صحیح استعمال کی تلقین کررہی ہے

    پربھنی کے مسلم نوجوانوں نے احتیاتی طورپر فیس بک ،وہاٹس ایپ اور ٹویٹر جیسے سوشل سائٹس سے بچنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جبکہ طلبہ تنظیم ایس آئی او سوشل میڈیا کا بائیکاٹ کرنے کی بجائے اس کا صحیح استعمال کی تلقین کررہی ہے

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:
      پربھنی : دہشت گرد تنظیم داعش کے ساتھ تعلق کے الزام میں پربھنی سے جن دو نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں آئی ہے ، ان کے بارے میں جانچ ایجنسیوں کا دعوی ہے کہ ان لوگوں نے سوشل میڈیا کے ذریعہ داعش کے ساتھ تعلقات قائم کئے ۔اب گرفتاریوں اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے بچنے کیلئے پربھنی کے مسلم نوجوانوں میں بیداری لانے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔
      دو نوجوانوں کی گرفتاری نے پورے شہر کے مسلمانوں میں شدید بے چینی اور ڈر کی کیفیت پیدا کردی ہے ۔ ہر ایک کو یہ محسوس ہورہا ہے کہ کچھ نہ کرتے ہوئے بھی انہیں سازش کے طورپر پھنسایا جاسکتا ہے۔ ایسے میں طلبہ کی اکثر یت سوشل میڈیا سے خود کو دور رکھنے میں ہی عافیت محسوس کررہی ہے ۔
      یہی وجہ ہے کہ موبائل پر انٹرنیٹ کا استعمال بند کیا جارہا ہے ۔ ایسے میں پربھنی کے مسلم نوجوانوں نے احتیاتی طورپر فیس بک ،وہاٹس ایپ اور ٹویٹر جیسے سوشل سائٹس سے بچنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جبکہ طلبہ تنظیم ایس آئی او سوشل میڈیا کا بائیکاٹ کرنے کی بجائے اس کا صحیح استعمال کی تلقین کررہی ہے ۔
      ادھر دانشوروں کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ اگر داعش مسلم نوجوانو ں کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کررہاہے ، تو حکومت اپنے طورپر وہ تمام ویب سائٹس کو بند کیوں نہیں کرتی ، جو داعش نے شروع کئے ہیں اور جن کا استعمال نوجوانوں کو بہکانے کے لئے کیا جارہا ہے ۔ ا گرحکومت نے اپنی سطھ پر کوشش کی ہوتی ، یہ مسئلہ ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
      First published: