உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کبھی مودی کے ساتھ ایک ہی اسکوٹر پر بیٹھ کر جاتے تھے توگڑیا، آج کیوں پڑے اکیلے؟

    وشو ہندو پریشد کے بین الاقوامی ایگزیکٹو صدر پروین توگڑیا: فائل فوٹو۔

    وشو ہندو پریشد کے بین الاقوامی ایگزیکٹو صدر پروین توگڑیا: فائل فوٹو۔

    توگڑیا کی وزیراعظم مودی سے کبھی گہری دوستی ہوا کرتی تھی۔ دونوں اسکوٹر پر ایک ساتھ بیٹھ کر آر ایس ایس کارکنوں سے ملنے جاتے تھے۔

    • Share this:

      جے پور۔ وشو ہندو پریشد کے بین الاقوامی ایگزیکٹو صدر پروین توگڑیا نے منگل کو پریس کانفرنس میں بی جے پی کے خلاف کئی الزامات عائد کیے ہیں۔ توگڑیا نے اپنے انکاونٹر کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔ پیر کے روز پارک میں بے ہوشی کی حالت میں ملے پروین توگڑیا کبھی ہندوتو کا ایک بڑا چہرہ ہوا کرتے تھے۔ لیکن، آج وہ الگ تھلگ پڑ گئے ہیں۔


      توگڑیا کی وزیراعظم مودی سے کبھی گہری دوستی  ہوا کرتی تھی۔ دونوں اسکوٹر پر ایک ساتھ بیٹھ کر آر ایس ایس کارکنوں سے ملنے جاتے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ صورتحال خراب ہوتی گئی۔ دو ہزار دو میں مودی کے گجرات کا وزیراعلی بننے کے بعد دونوں کے درمیان تعلقات میں کھٹاس آ گئی۔ آخر ایسا کیوا ہوا کہ پروین توگڑیا آج اکیلے پڑ گئے ہیں؟


      ان وجوہات سے بدلے حالات


      گجرات کے ایک سینئر وی ایچ پی کے رہنما کے مطابق کچھ دنوں پہلے اڈیشہ کے بھبنیشور میں وی ایچ پی کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا تھا۔ وی ایچ پی کے بین الاقوامی ایگزیکٹو صدر کے طور پر پروین توگڑیا کی مدت 31 دسمبر، 2017 کو ختم ہو رہی تھی۔ توگڑیا کے ساتھ وی ایچ پی کے صدر راگھو ریڈی کی مدت کار بھی ختم ہو رہی تھی۔ آر ایس ایس ریڈی کے بجائے وی کوکجے کو صدر بنانا چاہتا تھا۔ توگڑیا نے اس کی سختی سے مخالفت کی۔ توگڑیا چاہتے تھے کہ ریڈی کی مدت کار میں توسیع کی جائے۔


      ایک پروگرام میں توگڑیا نے رام مندر اور گئو رکشا کو لے کر مرکزی حکومت پر حملہ بولا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ لوگ انہیں سائڈلائن کر دینا چاہتے ہیں۔ توگڑیا نے گئو رکشا کے لئے کانگریس کی تعریف بھی کی تھی۔ اس کے بعد وہ نشانہ پر آ گئے۔


      توگڑیا 2002 کے آغاز سے ہی الگ تھلگ پڑنے لگے تھے۔ 2002 میں گجرات کے اس وقت کے وزیر اعلی مودی نے واضح کر دیا تھا کہ توگڑیا گجرات کی حکومت اور اس کے کام کاج اور خاص طور پر محکمہ داخلہ کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔ اس طرح سے سائڈ لائن ہونے کے بعد توگڑیا خود کو ٹھگا ہوا محسوس کرنے لگے۔ توگڑیا نے سال 2011 میں مودی کے مسلمانوں کے لئے دئیے گئے بیان کا مذاق بنایا تھا۔ توگڑیا نے کہا تھا کہ مودی نے اپنی شبیہ بدلنے کے لئے ہندوتوا کے ایجنڈے کو درکنار کر دیا ہے۔


      توگڑیا کے خلاف راجستھان کے سوائی مادھوپور ضلع کے گنگاپور کی ایک عدالت نے تقریبا ایک دہائی پرانے حکم کی خلاف ورزی کے ایک معاملہ میں گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا جس کو لے کر وهاں کی پولیس کل یہاں ان کی رہائش گاہ پر آئی تھی۔ لیکن ان کےنہیں ملنے پر پولیس واپس چلی گئی تھی۔ تقریبا اسی وقت دن کے پونے گیارہ بجے سے وہ لاپتہ ہو گئے تھے۔ اس کو لے کر وی ایچ پی نے خاصا ہنگامہ کیا تھا۔ پولیس کی کرائم برانچ نے انہیں تلاش کرنے کے لئے ایک خصوصی ٹيم تشکیل دی تھی۔ بعد میں رات نو بج کر 20 منٹ پر وہ بیہوشی کی حالت میں شہر کے كوترپور علاقے سے ملے اور انہیں شاهي باغ کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ ان کے خون میں شکر کم ہونے سے وہ بیہوش ہوگئے تھے۔


      First published: