உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پی این بی گھوٹالہ : بینک منیجر نے صرف ایک پاس ورڈ کے ذریعہ انجام دیا 11 ہزار کروڑ سے زائد کا گھپلہ

    اس بڑے گھوٹالہ کے سامنے آنے کے بعد سے ہر کوئی حیران ہے کہ آخر کیسے ایک بینک منیجر اور اس کے ایک ساتھی نے اتنے بڑے گھوٹالہ کو انجام دیا

    اس بڑے گھوٹالہ کے سامنے آنے کے بعد سے ہر کوئی حیران ہے کہ آخر کیسے ایک بینک منیجر اور اس کے ایک ساتھی نے اتنے بڑے گھوٹالہ کو انجام دیا

    اس بڑے گھوٹالہ کے سامنے آنے کے بعد سے ہر کوئی حیران ہے کہ آخر کیسے ایک بینک منیجر اور اس کے ایک ساتھی نے اتنے بڑے گھوٹالہ کو انجام دیا

    • Share this:
      ممبئی : پنجاب نیشنل بینک کے 11300 کروڑ روپے کی جعل سازی نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ اس بڑے گھوٹالہ کے سامنے آنے کے بعد سے ہر کوئی حیران ہے کہ آخر کیسے ایک بینک منیجر اور اس کے ایک ساتھی نے اتنے بڑے گھوٹالہ کو انجام دیا اور سات سالوں تک کسی کو اس کی بھنک تک نہیں لگی۔
      گھوٹالہ کے ماسٹر مائنڈ بتائے جارہے سابق ڈپٹی منیجر گوکل ناتھ شیٹی فی الحال سی بی آئی کی گرفت میں ہے ۔ دستاویز میں شیٹی کی اہلیہ کا موبائل نمبر ہے ، لیکن بار بار فون کرنے کے باوجود وہ جواب نہیں دے رہی ہیں ۔ سال 2011سے لے کر 2017 تک شیٹی نیرو مودی کی کمپنی کو فائدہ پہنچاتا رہا اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوئی ۔
      لیٹر آف انڈر ٹیکنگ ( ایل او یو ) کا کھیل
      اس گھوٹالہ میں سارا کھیل لیٹر آف انڈر ٹیکنگ ( ایل او یو ) کا ہے ، ایسے میں سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آخر ایل او یو ہے کیا ؟ در اصل ایل او یو کسی بین الاقوامی بینک یا کسی ہندوستانی بینک کی بین الاقوامی برانچ کی جانب سے جاری کیا جاتا ہے ۔اس لیٹر کی بنیاد پر بینک ، کمپنیوں کو 90 سے 180 دنوں تک کیلئے قلیل مدتی قرض مہیا کراتا ہے ۔ اس لیٹر کی بنیاد پر کوئی بھی کمپنی دنیا کے کسی بھی حصہ میں رقم نکال سکتی ہے ۔ اس ایل او یو کا غلط استعمال پنجاب نیشنل بینک کے افسروں نے کیا ۔ ذرائع کے مطابق تقریبا سات سال کے اندر ڈیڑھ سو سے زیادہ فرضی ایل او یو نیرو مود ی کی کمپنی کے نام جاری کئے گئے۔
      سوئفٹ سسٹم کا استعمال
      شیٹی نے بینک میں فرضی واڑہ کیلئے سوئفٹ سسٹم کا استعمال کیا ۔ سوئفٹ سسٹم کے ذریعہ ہی بینک ان دونوں پیسے ٹرانسفر کرتا ہے ، اس میں ایک خاص کورڈ کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ شیٹی نے سوئفٹ سسٹم کا استعمال کرنے کے بعد اس کی انٹری بینک کے داخلی سسٹم میں نہیں کی ۔ بینک کا داخلی سسٹم سوئفٹ سے جڑا ہوا نہیں تھا ۔ لہذا تمام لین دین کا ریکارڈ مینوول رکھنا پڑا تھا ۔ شیٹی خود ہی میسج بھیجتا تھا اور وہ خود ہی اس کا ریویو کرتا تھا ، ایسے میں وہ لیٹر آف انڈر ٹیکنگ بار بار جاری کرتا رہا ۔ جانچ کے دوران گرفتار افسروں نے نیرو مودی اور اس کے ساتھیوں کے ذریعہ کئے گئے ہر ایل او یو کے بارے میں بتایا ۔ اس میں ہر لون پر کمیشن طے کیا گیا تھا ۔ سی بی آئی کے مطابق اس جعل سازی میں پی این بی کے دیگر افسران اور باہر کے لوگ بھی شامل ہوسکتے ہیں۔
      First published: