உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Rajasthan: ہندوستان۔ پاکستان سرحد پر ایک ساتھ ہوا 50 جوڑوں کا نکاح، دلہنوں کو لینے 40 گاوں سے آئے دولہے

    Rajasthan: ہندوستان۔ پاکستان سرحد پر ایک ساتھ ہوا 50 جوڑوں کا نکاح، دلہنوں کو لینے 40 گاوں سے آئے دولہے

    Rajasthan: ہندوستان۔ پاکستان سرحد پر ایک ساتھ ہوا 50 جوڑوں کا نکاح، دلہنوں کو لینے 40 گاوں سے آئے دولہے

    50 couples got married together on Indo-Pakistan border : مہنگی شادیوں کے دور میں اتوار کو ہندوستان اور پاکستان بین الاقوامی سرحد پر ضلع باڑمیر میں مسلم معاشرے کی اجتماعی شادی کا پہلا پروگرام علاقے میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ باڑمیر ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں ہرپالیہ میں 50 جوڑوں نے ایک ساتھ نکاح قبول کیا ۔

    • Share this:
      باڑمیر: مہنگی شادیوں کے دور میں اتوار کو ہندوستان اور پاکستان بین الاقوامی سرحد پر ضلع باڑمیر میں مسلم معاشرے کی اجتماعی شادی کا پہلا پروگرام علاقے میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ باڑمیر ضلع کے ایک چھوٹے سے گاؤں ہرپالیہ میں  50 جوڑوں نے ایک ساتھ نکاح قبول کیا ۔ مسلم معاشرے کے اس پہلے اجتماعی شادی پروگرام میں بہت زبردست ہجوم دیکھنے کو ملا ۔ عوامی نمائندوں کی بڑی تعداد بھی نئے شادی شدہ جوڑوں کو نیک خواہشات دینے کیلئے پروگرام میں پہنچی تھی ۔

      شادیوں میں ہونے والی فضول خرچی کو روکنے کیلئے سرحدی باڑمیر میں مسلم کمیونٹی کے پہلے اجتماعی شادی پروگرام میں پچاس جوڑوں نے ایک ساتھ کاح قبول کیا۔ اس اجتماعی شادی پروگرام کی تیاریاں چھوٹے سے گاؤں ہرپالیہ میں گزشتہ ماہ سے جاری تھیں۔ اتوار کو یہ شادی پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا۔ قاضی سید نور اللہ شاہ بخاری نے تقریب میں 50 جوڑوں کا نکاح پڑھایا ۔ اجتماعی شادی کے اس پروگرام میں آس پاس کے چالیس دیہاتوں سے دولہے بارات کے ساتھ پہنچے تھے ۔ دلہنیں بھی اپنے اہل خانہ کے ساتھ یہاں پہنچی تھیں ۔

      ہرپالیہ کے رہنے والے جان محمد باڑمیر کے پی جی کالج میں سال اول میں پڑھتے ہیں۔ اتوار کو جان محمد کی شادی سکینہ بانو سے ہوئی۔ دولہا جان محمد کے مطابق یہاں کے مسلم سماج میں اجتماعی شادی کی یہ پہلی تقریب ہے۔ جان محمد کے مطابق وہ خوش ہیں کہ ان کی شادی اس تقریب میں ہوئی۔ جان محمد کی طرح اس اجتماعی شادی تقریب میں شادی کیلئے آنے والے ہر جوڑے نے خوشی کا اظہار کیا۔

      یہاں کے عوامی نمائندے سچو خان ​​نے گاؤں میں مسلم کمیونٹی کی اس اجتماعی شادی تقریب کے انعقاد کا منصوبہ بنایا تھا ۔ سچو خان ​​کے مطابق آج کل لوگ شادیوں میں بہت زیادہ دکھاوا کرتے ہیں اور ان میں بے تحاشہ اخراجات ہوتے ہیں ، جس کی وجہ سے متوسط ​​اور غریب طبقہ کے لوگوں کو قرضہ لے کر مجبورا دکھاوا کرنا پڑتا ہے۔

      انہوں نے مزید کہا کہ ایسے میں انہوں نے گاؤں کے لوگوں کے سامنے سادگی سے کچھ الگ کرنے کی بات کہی۔ گاؤں والوں نے بھی ان کی بات مانی اور اس پر عمل درآمد کرتے ہوئے اجتماعی شادی کا پروگرام ہوا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: