உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    راجستھان انتخابات 2018: منموہن سنگھ حکومت میں ہوئی تھی 3 سرجیکل اسٹرائک، لیکن ہم نے نہیں اٹھایا فائدہ: راہل

    کانگریس صدر راہل گاندھی

    کانگریس صدر راہل گاندھی

    کانگریس صدر نے کہا کہ منموہن سنگھ کے پاس آرمی آئی تھی لیکن نریندر مودی خود فوج کے پاس گئے اور سرجیکل اسٹرائیک کو رچا اور اسے سیاسی اثاثہ میں بدل دیا

    • Share this:
      راجستھان اسمبلی انتخابات کی تشہیری مہم کے لئے آج کانگریس صدر راہل گاندھی ادے پورے میں تھے۔ اس دوران انہوں نے شہر کے نوجوانوں، کاروباری لوگوں اور دوسرے لوگوں سے گفتگو کی۔ اس دوران انہوں نے مرکز کی مودی حکومت اور ریاست کی وسندھرا راجے حکومت پر جم کر حملہ کیا۔ راہل نے سرجیکل اسٹرائک، نوٹ بندی، جی ایس ٹی اور بے روزگاری جیسے تمام مسائل کو لے کر وزیر اعظم نریندر مودی پر حملہ بولا۔ راہل نے کہا کہ وزیراعظم مودی سیاسی فائدہ کے لئے سرجیکل اسٹرائک کا استعمال کرتے ہیں۔

      راہل نے کہا، کیا آپ جانتے ہیں؟ منموہن سنگھ نے تین سرجیکل اسٹرائک کئے تھے۔ جب آرمی منموہن سنگھ کے پاس گئی اور کہا کہ ہمیں پاکستان کے خلاف انتقامی کارروائی کرنا ہے اور اسے خفیہ رکھنا ہے۔ راہل نے کہا کہ منموہن سنگھ نے فوج کی بات مانی اور سرجیکل اسٹرائک ہوا۔

      کانگریس صدر نے کہا کہ منموہن سنگھ کے پاس آرمی آئی تھی لیکن نریندر مودی خود فوج کے پاس گئے اور سرجیکل اسٹرائیک کو رچا اور اسے سیاسی اثاثہ میں بدل دیا، جبکہ یہ فوج کا فیصلہ تھا۔ راہل نے کہا کہ فوج کو یہ پسند آتا کہ ہم اسے کرتے ہیں اور کسی کو پتہ نہیں چلتا کہ ہم نے کیا ہے۔ لیکن مودی جی یہ کرنا نہیں چاہتے تھے۔ وہ اترپردیش میں الیکشن لڑ رہے تھے اور ہار رہے تھے۔ اس لئے انہوں نے فوج کے اثاثہ کو سیاست کے اثاثہ میں بدل دیا۔

      راہل نے وزیر اعظم پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم اس بات سے واقف ہیں کہ فوج کو کیا کرنا ہے، وہ ان سے بہتر جانتے ہیں۔ وہ وزیر خارجہ سے بہتر جانتے ہیں کہ وزارت خارجہ میں کیا کرنا ہے۔ وزیر زراعت سے بہتر جانتے ہیں کہ وزارت زراعت میں کیا کرنا ہے۔ وزیر اعظم کو لگتا ہے کہ سارا علم انہیں کے دماغ سے آتا ہے۔





      راہل گاندھی نے یہاں ہندوؤں پر بھی بات کی۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ ہندو مذہب کی روح کیا ہے؟ گیتا میں کیا ہے؟ علم سب کے پاس ہے اور آپ کے چاروں طرف ہے۔ ہر ایک کے پاس علم ہے۔ ہمارے وزیراعظم کہتے ہیں کہ ہم ہندو ہیں لیکن وہ ہندوؤں کی بنیاد کو نہیں سمجھتے ہیں۔ انہوں نے سوال پوچھا کہ وہ کس طرح کے ہندو ہیں؟

      یہ بھی پڑھیں: راہل گاندھی کی درگاہ اجمیرمیں حاضری، ملک میں امن وسکون،خوشحالی اوربھائی چارہ کیلئے دعا، مندرکے بھی کئےدرشن
      First published: