உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دو سال بعد پاکستان سے ہندوستان لوٹیں گی دو دلہنیں ، جانئے کیا ہے پورا معاملہ

    دو سال بعد پاکستان سے ہندوستان لوٹیں گی دو دلہنیں ، جانئے کیا ہے پورا معاملہ ۔ علامتی تصویر ۔

    دو سال بعد پاکستان سے ہندوستان لوٹیں گی دو دلہنیں ، جانئے کیا ہے پورا معاملہ ۔ علامتی تصویر ۔

    مغربی راجستھان میں ہندوستان اور پاکستان کی بین الاقوامی سرحد پر بسے باڑمیر۔ جیسلمیر کے دو نوجوانوں کی زندگی کا آج اہم دن ہے ۔ پاکسان میں شادی ہوئی ان دونوں نوجوانوں کی دلہنیں دو سال بعد آج واگہہ بارڈر کے راستے ہندوستان لوٹ رہی ہیں ۔

    • Share this:
      مغربی راجستھان میں ہندوستان اور پاکستان بین الاقوامی سرحد پر واقع باڑمیر ۔ جیسلمیر ضلع کا پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ روٹی اور بیٹی کا رشتہ آج بھی قائم ہے ۔ یہ دیگر بات ہے کہ گزشتہ دنوں دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی تلخی کے بعد اب اس میں کئی طرح کی پریشانیاں سامنے آنے لگی ہیں ۔ اس وجہ سے اب ان رشتوں کو نبھانا نہ صرف مشکل ہوتا جارہا ہے بلکہ کئی طرح کی قانونی پیچیدگیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے ۔

      لیکن آج عالمی یوم خواتین کے موقع پر اچھی بات یہ ہے کہ دو نوجوانوں کی دلہنیں سرحد پار سے واگہہ بارڈر کے ذریعہ ہندوستانی آرہی ہیں ۔ جانکاری کے مطابق باڑمیر ۔ جیسلمیر کے دو نوجوانوں کی سال 2019 میں پاکستان کے سندھ میں شادی ہوئی تھی ۔ ان میں باڑمیر ضلع کے مہندر سنگھ کی چھگنی سے اور نیپال سنگھ کی کیلاش سے پاکستان میں شادی ہوئی تھی ، لیکن شادی کے دو سال بعد دونوں کی دلہنیں قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے ابھی تک ہندوستان نہیں آسکی ہیں ۔

      تاہم اب ان کے ہندوستان لوٹنے کا راستہ صاف ہوگیا ہے ۔ وہ آج واگہہ بارڈر کے راستے ہندوستان آرہی ہیں ۔ آج واگہہ بارڈر سے مہندر سنگھ کی بیوی چھگنی ، نیپال سنگھ کی بیوی کیلاش ، ان کی ساس مور کنور ہندوستان آرہی ہیں ۔

      قابل ذکر ہے کہ مغربی راجستھان میں واقع جیسلمیر اور باڑمیر کے کئی کنبوں کی پاکستان میں رشتہ داری ہے ۔ دونوں ممالک کے لوگ پہلے شادی بیاہ اور تہواروں میں سرحد پار کرکے آتے جاتے رہے ہیں اور اس کیلئے تھار ایکسپریس ٹرین کڑی کے طور پر کام کرتی تھی ، لیکن گزشتہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان بڑھی تلخی کے بعد تھار ایکسپریس بند ہوگئی ، جس کی وجہ سے دونوں طرف رہنے والے لوگوں کے رشتے متاثر ہونے لگے اور آمد و رفت رک گئی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: