ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

راجستھان کے وزیر کا مضحکہ خیز بیان ، کہا :  زہریلی شراب سے مرنے والے سبھی لوگ یوپی اور بہار کے، ہم کیا کریں؟

باڑ میر : ضلع میں زہریلی شراب پینے سے اب تک 16 افراد کی موت ہو چکی ہے۔ باڑ میر کے اس درد میں ہر کوئی غمگین نظر آ رہا ہے۔

  • ETV
  • Last Updated: Apr 08, 2016 12:01 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
راجستھان کے وزیر کا مضحکہ خیز بیان ، کہا :  زہریلی شراب سے مرنے والے سبھی لوگ یوپی اور بہار کے، ہم کیا کریں؟
باڑ میر : ضلع میں زہریلی شراب پینے سے اب تک 16 افراد کی موت ہو چکی ہے۔ باڑ میر کے اس درد میں ہر کوئی غمگین نظر آ رہا ہے۔

باڑ میر : ضلع میں زہریلی شراب پینے سے اب تک 16 افراد کی موت ہو چکی ہے۔ باڑ میر کے اس درد میں ہر کوئی غمگین نظر آ رہا ہے۔ یہاں تک کی اپوزیشن کانگریس کے ریاستی صدر بھی باڑ میر کا دورہ کر کے مرنے والوں کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار تعزیت کرچکے ہیں۔

وہیں دوسری طرف حکمراں پارٹی کے وزیر یعنی کی جن کے کندھوں پر اس ضلع کی ذمہ داری ہے ، وہ بے تکے بیانات دے کر جلے پر مرہم کی بجائے نمک پاشی کا کام کر رہے ہیں۔

راجستھان کے ریوینیو کے وزیر امرارام نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ زہریلی شراب سے مرنے والے تمام لوگوں یوپی اور بہار کے ہیں۔ نیتا جی یہیں نہیں رکے ، بلکہ مزید کہا کہ شراب پینے والے پیتے ہیں اور گوشت کھانے والے گوشت کھاتے ہیں ، اس میں ہم کیا کریں اور جو ہو گیا ، وہ ہم نے تو کیا نہیں اور کرنے والے تم خود ہی ہو۔ آگے اپنے بیٹوں کا خیال رکھنا کہ وہ زہریلی شراب نہ پئیں۔

وزیر موصوف اپنی حکومت کی لاپروائي چھپانے کے لئے مرنے والوں کو یوپی اور بہار کا بتا رہے ہیں جبکہ جو لوگ مرے ہیں ، وہ تمام ضلع کے مختلف دیہات کے ہیں۔ وزیر موصوف خود ان دیہات میں جا کر 75000-75000 کے چیک معاوضے کے طور ان کے اہل خانہ کو سونپ آئے ہیں۔

اس کے علاوہ وزیر موصوف کا ایک اور مضحکہ خیز بیان یہ ہے کہ مرنے والے ہماری غلطی سے تو نہیں مرے ہیں ۔ تاہم وزیر موصوف نے یہ نہیں بتایا کہ ریاست میں زہریلی شراب کی فروخت روکنے کی ذمہ داری کس کی ہے، آبکاری اور پولیس محکمہ کس کے کنٹرول میں کام کرتا ہے اور پھر جو لوگ مرے ہیں ، اس کا ذمہ دار کون تھا؟

First published: Apr 08, 2016 12:01 PM IST