ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

راجستھان سیاسی بحران: راجستھان ہائی کورٹ میں سماعت پر روک لگانے سے سپریم کورٹ کا انکار، پیر کو ہو گی سماعت

سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک نہیں لگائی لیکن کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہو گا اور ہائی کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر منحصر کرے گا۔

  • UNI
  • Last Updated: Jul 23, 2020 03:05 PM IST
  • Share this:
راجستھان سیاسی بحران: راجستھان ہائی کورٹ میں سماعت پر روک لگانے سے سپریم کورٹ کا انکار، پیر کو ہو گی سماعت
اشوک گہلوت اور سچن پائلٹ

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے راجستھان ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگانے سے متعلق ریاستی اسمبلی اسپیکر کی اپیل جمعرات کو ٹھکرا دی۔حالانکہ عدالت نے یہ واضح کردیا کہ کانگریس لیڈر سچن پائلٹ اور ان کے خیمے کے 18 ارکان سمبلی کے خلاف کارروائی کے معاملے میں ہائی کورٹ کا کوئی بھی فیصلہ سپریم کورٹ کے آخری فیصلے پر منحصر کرے گا۔ جسٹس ارون کمار مشرا،جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس کرشن موراری کی بینچ نے اسمبلی اسپیکر سی پی جوشی کی جانب سے پیش سینئر وکیل کپِل سبل اور پائلٹ خیمے کی جانب سے پیش سینئر وکیل ہریش سالوے اور مکل روہتگی کی دلیلیں سننے کے بعد کہا کہ وہ اس معاملے میں پیر کو تفصیلی سماعت کرے گی۔ اس دوران ہائی کورٹ کے منگل کے حکم پر روک نہیں لگے گی۔


سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں سماعت کرے گی کہ کیا ہائی کورٹ ایوان کے اسپیکر کے نوٹس کے خلاف دائر عرضی پر سماعت کرسکتا ہے یا نہیں؟ بینچ اسپیکر کے اختیارات بنام عدالت کے دائرہ اختیار جیسے اہم سوال پر غور کرے گی۔حالانکہ عدالت نے یہ بھی واضح کردیا کہ ہائی کورٹ کا 24 جولائی کا کوئی بھی فیصلہ اس معاملے میں سپریم کورٹ کے آخری فیصلے پر منحصر کرے گا۔ اسمبلی اسپیکر نے راجستھان ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا ہے جس میں اس نے جمعہ تک سچن پائلٹ اور ان کے خیمے کے 18 اراکین کے خلاف کارروائی پر روک لگا دی ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ہائی کورٹ اسمبلی اسپیکر کو سچن پائلٹ پر کارروائی کرنے سے نہیں روک سکتا۔ عدالت کا کل کا حکم عدلیہ اور مقننہ کے درمیان تنازعہ پیدا کرتا ہے۔


سماعت کی شروعات میں سبل نے اسمبلی اسپیکر کا موقف رکھتے ہوئے 1992 کے کیہوٹو ہولوہان معاملے میں سپریم کورٹ کی آئینی بینچ کے فیصلے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے مطابق ارکان اسمبلی کی نااہلی کے مسئلے پر اسپیکر کا فیصلہ آنے سے پہلے عدالت دخل نہیں دے سکتی۔ نااہل ٹھہرانے کا عمل پورا ہونےسے پہلے عدالت میں دائر کوئی بھی عرضی سماعت کے قابل نہیں ہے۔ سبل نے سپریم کورٹ کے ایک دیگر مسئلے میں حال ہی میں کئے گئے فیصلے کا بھی حوالہ دیا جس میں اسپیکر سے ایک مناسب وقت کے اندر فیصلہ کرنے کی اپیل کی گئی تھی، نہ کہ انہیں کوئی حکم دیا گیا تھا اور نہ ہی انہیں طے تاریخ پر نااہلی کا عمل پورا کرنے یا روکنے کے لئے کہا گیا تھا۔


اس پر جسٹس مشرا نے سبل سے پوچھا،’’اس معاملے میں ارکان اسمبلی کو کس بنیاد پر نااہل ٹھہرائے جانے کا مطالبہ کیاگیا ہے؟سابق وزیر قانون نے کہا کہ یہ ارکان اسمبلی پارٹی کی میٹنگ میں شامل نہیں ہوئے۔ وہ پارٹی مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ انہوں نے انٹرویو دیا ہے کہ وہ فلور ٹیسٹ چاہتے ہیں۔ وہ ہریانہ کے ایک ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی ایک الگ پارٹی بنانے کی سازش میں لگے ہوئے ہیں اور ریاست کی موجودہ حکومت کو گرانا چاہتے ہیں۔‘‘جسٹس مشرا نے ایک بار پھر کپل سبل سے پوچھا،’’پارٹی کے اندر جمہوریت پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا پارٹی کی میٹنگ میں حصہ لینے کے لئے وہپ جاری کیا جا سکتا ہے؟
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jul 23, 2020 01:44 PM IST