உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    راجستھان میں معدنیات کے الاٹمنٹ میں 45 ہزار کروڑ روپے کا گھپلہ: کانگریس

    نئی دہلی۔  کانگریس نے راجستھان میں وسندھرا راجے کی زیرقیادت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت پر معدنیات کے الاٹمنٹ میں 45 ہزار کروڑ روپے کا گھپلہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے آج راجستھان کے کانگریسی ممبران اسمبلی اور دیگر پارٹی لیڈروں نے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) اور چیف ویجیلنس کمشنر (سی وی سی) سے ملاقات کرکے اس کی شکایت کی۔

    نئی دہلی۔ کانگریس نے راجستھان میں وسندھرا راجے کی زیرقیادت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت پر معدنیات کے الاٹمنٹ میں 45 ہزار کروڑ روپے کا گھپلہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے آج راجستھان کے کانگریسی ممبران اسمبلی اور دیگر پارٹی لیڈروں نے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) اور چیف ویجیلنس کمشنر (سی وی سی) سے ملاقات کرکے اس کی شکایت کی۔

    نئی دہلی۔ کانگریس نے راجستھان میں وسندھرا راجے کی زیرقیادت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت پر معدنیات کے الاٹمنٹ میں 45 ہزار کروڑ روپے کا گھپلہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے آج راجستھان کے کانگریسی ممبران اسمبلی اور دیگر پارٹی لیڈروں نے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) اور چیف ویجیلنس کمشنر (سی وی سی) سے ملاقات کرکے اس کی شکایت کی۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔  کانگریس نے راجستھان میں وسندھرا راجے کی زیرقیادت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت پر معدنیات کے الاٹمنٹ میں 45 ہزار کروڑ روپے کا گھپلہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے آج راجستھان کے کانگریسی ممبران اسمبلی اور دیگر پارٹی لیڈروں نے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) اور چیف ویجیلنس کمشنر (سی وی سی) سے ملاقات کرکے اس کی شکایت کی۔


      کانگریس کے ریاستی صدر سچن پائلٹ نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ پارٹی لیڈروں نے سی اے جی اور سی وی سی سے ملاقات کرکے اس پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے انکوائری کرائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تاکہ اصل حقائق کا پتہ لگاکر ملک کو اتنے بڑے خسارے سے بچایا جا سکے۔
      انہوں نے الزام لگایا کہ 31 دسمبر 2014 کو صرف ایک دن میں متعلقہ وزیر سمیت 12 افراد نے معدنیات کے الاٹمنٹ کی فائلوں پر دستخط کرڈالے جو حیران کن معاملہ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت نے افسروں اور تاجروں کی ملی بھگت سے صرف 72 دنوں کے اندر ایک لاکھ بیگھ زمین پر محیط653 کانوں کا الاٹمنٹ کردیاجبکہ مرکزی حکومت نے 20 اکتوبر 2014 کو یہ واضح ہدایت جاری کررکھی ہے کہ نیلامی کے بغیر کسی بھی کان کا ہرگز الاٹمنٹ نہ کیا جائے۔ لیکن ریاستی حکومت نے نیلامی کرنے سے متعلق ہدایت کو نظرانداز کرکے اتنی کم مدت میں محض خانہ پری کرکے 653 کانوں کا الاٹمنٹ کرکے ملک کو 45 ہزار کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا۔


      مسٹر پائلٹ نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت کی ایما پر ریاستی حکومت نے 45 ہزار کروڑ روپے کا گھپلہ کرڈالا اور معاملہ سامنے آنے پر ایک آئی اے ایس افسر کو اس کے لے ذمہ دار ٹھہراکر جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔انہوں نےکہا کہ اگر اس معاملے کی سی بی آئی انکوائری کا حکم نہیں دیا گیا تو کانگریس عدالت سے رجوع کرے گی۔

      First published: