உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسلمانوں کو بھارت ماتا کی جئے کہنے میں کیا حرج ہے: رام داس اٹھاولے‎

    ناندیڑ۔ ریپبلک پارٹی آف انڈیا کے رکن پارلیمنٹ  رام داس اٹھاولے نے ناندیڑ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بھارت ماتا کی جئے کے مسئلے پر مسلمانوں کو اور حکومت کو اس مسئلے پر سختی سے کام نہ لینے کا  مشورہ دیا ہے۔

    ناندیڑ۔ ریپبلک پارٹی آف انڈیا کے رکن پارلیمنٹ رام داس اٹھاولے نے ناندیڑ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بھارت ماتا کی جئے کے مسئلے پر مسلمانوں کو اور حکومت کو اس مسئلے پر سختی سے کام نہ لینے کا مشورہ دیا ہے۔

    ناندیڑ۔ ریپبلک پارٹی آف انڈیا کے رکن پارلیمنٹ رام داس اٹھاولے نے ناندیڑ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بھارت ماتا کی جئے کے مسئلے پر مسلمانوں کو اور حکومت کو اس مسئلے پر سختی سے کام نہ لینے کا مشورہ دیا ہے۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      ناندیڑ۔ ریپبلک پارٹی آف انڈیا کے رکن پارلیمنٹ  رام داس اٹھاولے نے ناندیڑ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بھارت ماتا کی جئے کے مسئلے پر مسلمانوں کو اور حکومت کو اس مسئلے پر سختی سے کام نہ لینے کا  مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ماتا کی جئے کے مسئلے پر سیاست نہیں ہونی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو بھی اس معاملے میں شدت پسندی نہیں دکھانی چاہئے اور اگر کوئی ان سے کہلوانا چاہتا ہے تو کہنے میں کوئی حرج نہیں ہونی چاہئے۔


      وہیں دوسری طرف رام داس اٹھاولے نے حکومت سے بھی کہا کہ بھارت ماتا کی جئے کہنے کےلئے کسی ایک طبقہ کے ساتھ سختی نہیں کی جانی چاہئے کیونکہ دستور میں ایسا کہیں لکھا نہیں گیا ہے کہ بھارت ماتا  کی جئے کہنا لازمی ہے ۔ رام داس اٹھاولے نے دلتوں پر ہونے والےمظالم کے خلاف ملک گیر رتھ یا ترا شروع کی ہے ۔ الگ الگ شہروں کا دورہ کرکے یہ رتھ یاترہ ناندیڑ پہنچی ۔ دستورکے بانی ڈاکٹر بھیم راؤامبیڈکر کی 125 ویں سالگرہ کے ضمن میں ان کی یہ رتھ یاترا جاری ہے ۔ اس رتھ یاترا کے ذریعہ ظلم و بربریت کے خلاف دلتوں کو متحد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

      First published: